Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان میں جاری دو روزہ انٹرنیشنل ورچوئل کانفرنس اختتام پذیر

ویمن یونیورسٹی ملتان میں جاری رو روزہ انٹرنیشنل ورچوئل کانفرنس اس اعلامیہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کےلئے جدید تقاضوں کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے، سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کا ضامن ہے، اس سے ہر پاکستانی کو فائدہ اٹھانےکےلئے اپنے شعبوں میں جدت لانا ہوگی، پاکستان میں انرجی بحران پر قابو پانا ہوگا، اور سستی توانائی کا حصول یقینی بنانا ہوگا، جس سے صنعتی اور زرعی پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
افراط زر پر قابو پانے اور معاشی مسائل کو کنٹرول کرنے کےلئے حکومت کو ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرکے ان کی تجاویز کو قومی پالیسی بنانا ہوگی، سماجی ترقی کےلئے معاشرے میں موجود ڈپریشن کا خاتمہ کرنا ہوگا، صنفی امتیاز کو ختم کرنا ہوگا، جنسی ہیجان کے خاتمے کےلئے موثر قوانین بنانا ہوں گے۔
قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ آج ویمن یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اس نے ایک ایسی کانفرنس کی میزبانی کی جس میں حالات حاضرہ سے جڑے مسائل زیر بحث آئے، اور ان کو حل کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں، جس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہ ترقی پذیر معاشروں کے رجحانات اور ان میں آنے والی تبدیلوں کا جائزہ لے کر ہی ہم اپنے سماج اور اس سے جڑے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ بھی سکتے ہیں، اور ان کا حل بھی تلاش کر سکتے ہیں۔
درس گاہوں میں ہونے والی تحقیق نئے نظریات کو جنم دیتی ہے۔ یہ نظریات تجربے اور تجزیے کی بھٹی سے گزر کر ٹھوس حالت میں جب جامعات سے باہر آتے ہیں تو اس سے معاشرہ تبدیل بھی ہوتا ہے اور ترقی بھی کرتا ہے۔
تعلیمی ادارں میں اگر سماجی علوم کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ انھیں سائنسی علوم کے مقابلے میں درخور اعتناء نہ سمجھا جائے، جامعات سے اگر علمی آزادی چھن جائے، تو پھر قائل و مائل کرنے کے لیے دلیل اور منطق بے سود ہوجاتے ہیں ، اور سماجی بگاڑ کا وہ عمل شروع ہو جاتا ہے کہ جس کو روکنا ریاست اور سیاست دونوں ہی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
جامعات کے سماجی علوم کے شعبہ جات کو رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے مسائل و چیلنجز کے لیے وہ حل مل سکیں گے کہ جن کو اپنا کر ہم اپنے معیار تعلیم، معیارزندگی اور معاشرہ کو بہتر بنا سکیں۔
سماجی علوم کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ طلبا ان شعبوں میں بھی تعلیم حاصل کر کے اپنی بہترین خدمات ملک کو دے سکیں گے۔
سماجی علوم میں ایسے موضو عات پرریسرچ پروجیکٹ شروع کئے جائیں۔ جن کا براہ راست تعلق پاکستانی معاشرے کو در پیش سماجی معاشی مسائل سے ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےماہرین ڈاکٹر شجاع احمد، پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ انور، ڈاکٹر کامران اشفاق، ڈاکٹر محمد وحید اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل سائنسز آج سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلّق کئی ایک شعبہ جات میں ترقی کر چکا ہے۔
سوشل سائنس، سائنسی طریق کار اپناتے ہوئے کسی معاشرے کی ساخت،رہن سہن،اندازِ فکر،روایات کا مطالعہ اور دیگر سماجی حقائق کی دریافت اور ان کی تشریح کرتی ہے۔
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ دورِ حاضر میں کسی قوم کی معاشی ترقی کا انحصار اس کی سماجی ترقی پر ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو درپیش سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لئے جدید سائنسی بنیادوں پر اپنا نظامِ تعلیم وضع کیا جائے تاکہ ہم نظری تعلیم سے عملی زندگی کی مشکلات کو بہتر طریقے سے حل کر سکیں۔
کانفرنس کی میزبان ڈاکٹر حنا علی نے کہا کہ کسی معاشرے کی ترقی کےلئے سماجی علوم کی اہمیت مسلمہ ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ سماجی علوم کی ترویج کے ذریعے اپنی قومی و سماجی ترقی کی راہ ہموار کریں۔
سماجی علوم کے بہتر فروغ کے ذریعے معاشرے کو مربوط کیا جاسکتا ہے۔ ملک کی سماجی معاشی ترقی کیلئے سوشل سائنسز کی اہمیت اور معاشرے کی اصلاح کو محسوس کیا گیا ہے۔
اس کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، مستقبل میں بھی ایسی کانفرنسز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ پاکستان کی ترقی میں ویمن یونیورسٹی کا کردار واضح اور روشن نظر آئیں۔
کانفرنس کے دوسرے سیشن کی صدارت ڈاکٹر نورین صفدر اور ڈاکٹر ملکہ لیاقت نے کی ۔
اس دو روزہ کانفرنس میں 14 مقالے پیش کیے گئے۔
آخر میں کانفرنس کے شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقیسم کیے گئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button