Paid ad
Breaking NewsNationalSportsتازہ ترین

بابر اعظم دنیا کے نمبر ون بلے باز بن گئے

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ میں شامل جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کا اختتام دنیائے کرکٹ کے نمبر ون بیٹسمین کی حیثیت سے کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے تین میچوں میں 228 رنز بنانے والے بابراعظم نےسیریز کے دوران مجموعی طور پر 28 ریٹنگ پوائنٹس حاصل کیے۔

سیریز کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی درجہ بندی میں بھارت کے ویرات کوہلی اور پاکستان کے بابراعظم کے درمیان 20 ریٹنگ پوائنٹس کا فاصلہ تھا۔

میزبان ٹیم کے خلاف پہلےایک روزہ میچ میں 103 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے پر بابراعظم آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل پلیئرز رینکنگ میں پہلے نمبر پر پہنچ گئے تھے تاہم سیریز کے دوسرے میچ میں 31 رنز بناکر آؤٹ ہونے کے باعث وہ پانچ پوائنٹس گنوانے کی وجہ سے دوبارہ دوسری پوزیشن پر پہنچ گئے۔

البتہ بابراعظم نے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں ایک بار پھر شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 94 رنز بناکر مین آف دی میچ قرار پائے۔ میزبان ٹیم کے خلاف اس اننگز کی بدولت وہ ایک بار پھر ون ڈے انٹرنیشنل پلیئرز رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

بابراعظم سے قبل بھارت کے کپتان ویرات کوہلی عالمی درجہ بندی میں نمبر ون بیٹسمین تھے۔ وہ اکتوبر 2017 سے اسی رینک پر موجود تھے۔ ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان بابراعظم کا ٹی ٹونٹی کی عالمی رینکنگ میں تیسرا اور ٹیسٹ میں چھٹا نمبر ہے۔

ان کے علاوہ صرف ویرات کوہلی دنیا کے وہ واحد بیٹسمین ہیں جو فی الحال ان تینوں فارمیٹ کی عالمی درجہ بندی کے مطابق ابتدائی چھ بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں بابراعظم وہ چوتھے پاکستانی ہیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

اس سے قبل ظہیر عباس نے ورلڈکپ 1983 میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں 103 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلنے پر عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، پھر جاوید میانداد نے ورلڈکپ 1987 میں سری لنکا کے خلاف 103 رنز بناکر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

18 سال قبل محمد یوسف نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں 60 رنز بناکر آئی سی سی ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ وہ ظہیر عباس، جاوید میانداد اور محمد یوسف جیسے مایہ ناز کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہونے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں کرکٹرز ہمیشہ پاکستان کی کرکٹ کے روشن ستارے رہیں گے۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ اب ان کا اگلا ہدف اس درجہ بندی کو برقرار رکھنا ہوگا، کوشش کریں گے کہ وہ سخت محنت اور یکسوئی کا مظاہرہ کریں۔

سر ویو رچرڈز نے جنوری1984 سے اکتوبر1988 تک جبکہ ویرات کوہلی نے 1258 روز تک یہ پوزیشن اپنے پاس رکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سے قبل ٹی ٹونٹی کی عالمی پلیئرز رینکنگ میں بھی نمبر ون بن چکے ہیں مگر ان کا اصل ہدف ٹیسٹ کرکٹ کا نمبر ون بیٹسمین بننا ہے کیونکہ کسی بھی کرکٹر کی صلاحیتوں کا اصل امتحان تو ٹیسٹ کرکٹ ہی ہے۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام کے حصول کے لیے سخت محنت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور کوشش ہوگی کہ عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ان لمحات سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے 18 ماہ بعدپاکستان ایشیاء کا وہ واحد ملک بن گیا ہے کہ جس نے جنوبی افریقہ کو اس کی اپنی سرزمین پر دوسری مرتبہ ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شکست دی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button