یونیورسٹیوں میں مقالوں کی جانچ پڑتال کا کام رک گیا

ہائرایجوکیشن کمیشن اور سافٹ ویئر کمپنی کے درمیان معاہدہ نہ ہوسکا، پاکستان بھی یونیورسٹیوں میں مقالوں اور ریسرچ ورک کی چھان بین کا کام رک گیا ۔
تفصیل کے مطابق ملک کی یونیورسٹیوں کے شعبہ کوالٹی انہاسمنٹ ریسرچ اور مقالوں کی جانچ کےلئےسافٹ ویئر استعمال کرتی ہے، مگر اب تحقیقی مقالہ جات میں چربہ سازی پکڑنے والی سافٹ ویئر کمپنی "ٹرن اٹ ان” اور ایچ ای سی کے درمیان معاہدہ بحال نہ ہوسکا۔
ٹرن اٹ ان نے پاکستانی یونیورسیٹوں کی سروس معطل کرنے کے حوالے سے اعلان کر دیا ہے کہ ٹرنٹن انتظامیہ اور ایچ ای سی کے درمیان معاہدہ جون میں ختم ہوا ، جو تاحال بحال نہیں ہو پایا۔
ٹرنٹن انتظامیہ کی جانب سے جاری ای میل کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے رقم کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث سروس نہیں دیں گے۔
سروس کی معطلی کے بعد اساتذہ ، طلباء کے ریسرچ پیپرز کا پلیجرازم چیک نہ ہونے کے باعث قومی و بین الاقوامی مقالہ جات میں جمع نہیں ہو سکیں گے۔
اساتذہ اور طلباء کے مطابق جامعات میں تھیسز اور ریسرچ پیپرز کا کام رک جائے گا ، اور بی ایس اور ماسٹرز کے طلباء کی اسائنمنٹس کا پیلجرازم چیک کا عمل بھی معطل ہوجائے گا۔



















