بھارت ہائبرڈ وار کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے: وزیر خارجہ

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت ہائیبر ڈوار کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔
فیک نیوز کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتا ہے جو اپنے وسائل اور اداروں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے بیج بونا چاہتا ہے رب العالمین انکے عزائم کو خاک میں ملادے۔
کچھ طاقتیں پاکستان میں نقص امن اور انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔ ہمیں ایسی قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا۔
اسلام فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے خلاف یکجاں ہونا ہوگا ۔
بین المذہب ہم آہنگی کی جتنی ضرورت آج کے دور میں ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ مقبوضہ کشمیر حریت لیڈر سید علی گیلانی نے بیماری میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ہم ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد سید علی گیلانی کے جسد خاکی کوانکے خاندان سے زبردستی چھینا گیا۔ہم ان کے خاندان کے صبر کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہیں انکی وصیت کے مطابق دفن نہ کیا گیا۔ہم بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی پر زورمذمت کرتے ہیں ۔
ہمارے ہمسایہ میں 40 سال بعد امن کی امید ہوئی ہے۔ یا اللہ افغانستان میں امن فرما مولا دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا، یا اللہ ہندوستان کی موجودہ سرکار کے عزائم کو خاک میں ملا دے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی ؒ کے 782ویں سالانہ عرس مبارک کی اختتامی نشست سے خطاب و اختتامی دعا کرواتے ہوئے کیا، اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری خزانہ مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن گیلانی‘ حاجی جاوید اختر انصاری‘ ڈپٹی کمشنر ملتان عامر کریم خان ‘ سجادہ نشین پاک پتن شریف دیوان حامد مسعود چشتی فاروقی‘خواجہ عزیر عامر کوریجہ ‘بریگیڈیئر(ر) مقصودقریشی‘پیر شیخ اعجاز علی قادری سہروردی‘ میاں گنج بخش سہروردی‘میاں محمد عابد اندھڑسہروردی‘ڈاکٹر شہوار مصطفی اویسی‘ ملک ظہور مہے ‘ رئیس حاجی خان چاچڑ‘ سید عمران حید ر گردیزی ‘ ڈاکٹر آصف قریشی‘ مولانا غلام درویش‘محمد ارشد صدیقی سمیت عقید ت مندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا حضرت بہاوالدین زکریا کے 782 ویں عرس کی آخری نشست میں بوجھل دل کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہوں۔ شہر ملتان کو کرونا کی وجہ سے ہائی رسک شہر قرار دیا گیا ایسے میں پہلے جیسی محافل عرس سجانا بہتر نہیں تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کی صحت کا خیال بھی رکھنا ہے۔ہماری خواہش تھی کہہ سینکڑوں سالوں کی روایت بھی برقرار رہے اور ہم اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کر سکیں۔
آپ مایوس نہ ہوں مجھے بہت سے لوگوں کے بڑے دردمندانہ فون آئے لا تعداد پیغامات آئے۔ جو اپنے گھروں میں افسردہ ہیں، انکو کہتا ہوں مت گھبراؤ مرشد کی نگاہ تم تک پہنچے گی۔
لاکھوں عقیدت مند سندھ ، بلوچستان، آزاد کشمیر جنوبی پنجاب میں موجود ہیں، میری آواز ان تک پہنچ رہی ہے۔
میرا ایمان ہے آپ کی حاضری قبول ہے ، اللہ تعالٰی دلوں کے راز جانتا ہے۔
انہوں نے کہا ان آستانوں میں محبت اور امن کی تعلیم دی جاتی ہے دنیا ان آستانوں سے فیض پاتی رہی ہے۔ ان آستانوں نے مختلف ادوار دیکھے انگریز اور سکھوں کے دور میں بھی آستانوں کا فیض جاری رہا ہے۔ کبھی دل میں یہ بات نہ لانا کہ اس آستانے کے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔ اس دنیا میں ہم تو چند دن کے مہمان ہیں مگر یہ آستانے تا حیات قائم رہیں گے۔اور آستانوں کا فیض جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا جج سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے، پچھلے دو سالوں سے حج کی سعادت لوگ حاصل نہیں کر سکے۔حج جہاں لاکھوں کا مجمع وہاں چند ہزار کو حج کی اجازت ملی۔روضہ رسول سے بڑی سعادت کی حاضری کیا ہو سکتی ہے۔مگر حالات کو دیکھتے ہوئے وہاں بھی بندش کرنی پڑی۔
زائرین مایوس نہ ہوںاللہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔کورونا وباءدیکھائی نہیں دیتی مگر اثرات چھوڑ جاتی ہے۔کورونا کی وجہ سے عرس تقریبات کو محدود کرنے کا مشکل فیصلہ کیا۔
کورونا کی وجہ سے ماضی کی طرح کی نشستوں کو منعقد نہیں کر سکے۔ مگرکووڈ کی وجہ سے یہ محفل مختصر کرنی پڑی ہے۔میں نے جماعت غوثیہ سے کہا ہے کہ جو جہاں بیٹھے ہیں وہی سے بیٹھ کر دعائیں کریں، اور عر س کی روحانی محفل میں اپنے اپنے مقام پر بیٹھ کر شریک ہوں۔

اس موقع پر انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا اللہ پاک ہمیں اندرونی انتشار اور بیرونی یلغار سے محفوظ فرمائے۔یا اللہ اس وباءسے پوری دنیا کو نجات عطا فرما۔جو لوگ یہاں آئے ہیں اللہ ان کی حاضری قبول فرمائے۔ اللہ اس دربار پر آنے والے سب لوگوں کی حاضری قبول فرمائے۔جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔یا اللہ بیماریوں کو شفاءعطا فرما۔
ہماری ملک کی حفاظت فرما ۔یا اللہ کشمیر فلسطین کی بیٹوں کو محفوظ فرما یا ۔اللہ رب العالمین نہتے کشمیریوں اور فلسطینی بھائیوں کی جدوجہد کو کامیابی عطا فرما۔کچھ ظالم آئے دن نہ دین نہ روایات کو نہ قانون کو دیکھتے ہیں بیٹوں کی چادروں پر حملہ کرتے ہیں۔ہماری بیٹیوں کی عزتیں محفوظ فرما۔
یا رب العالمین محفل میلاد کے صدقے سے اس وباء سے ہمیں نجات عطا فرما۔ اللہ ہمارے کوتاہیوں کو عیبوں پر اپنے کرم سے پردہ ڈال دے ہمیں پر رحم فرما۔اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ہم پر اپنا کرم عطا فرما یااللہ ہمیں کورونا کی چوتھی لہر سے محفوظ فرما۔
یا اللہ کشمیر اور فلسطین کو آزادی نصیب فرما ۔رب العالمین عقیدت و محبت کے ان پھولوں کو جو نچھاور کیئے جاتے ہیں قبول فرمائے۔ جو پریشانیوں میں مبتلا ہیں میرے مالک ان کی مشکلات آسان فرما۔جو اولاد کے طالب ہیں رب العالمین ان کی جھولیاں بھر دے اولاد نرینہ عطا فرما۔ ان بندشوں کی وجہ سے جن کا کاروبار برباد ہوا انکے لیئے رزق کے دروازے کھول دے۔یا رب العالمین سندھ اور بلوچستان میں پانی کی قلت ہے انکی مشکلات آسان فرمائے رزق میں برکت فرما۔
جو شخصیات آج ہم میں موجود نہیں انکے درجات بلند فرما ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمو د قریشی نے ملکی سلامتی ‘ ترقی ‘ خوشحالی ‘ امن کے قیام اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وباءکے خاتمے کیلئے خصوصی دعا کروائی۔
انہوں نے کہا میں شکریہ ادا کرتا ہوں ان سینکڑوں افراد کاجنہوں نے ہزاروں من دودھ جمع کیا، لیکن وہ زائرین میں تقسیم نہ کر سکے۔
بعد ازاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مخدوم زادہ زین حسین قریشی و خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ دربار شریف پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔


















