ویمن یونیورسٹی ملتان میں امن کے عالمی دن کے موقع پر انٹرنیشنل ویب نار کا اہتمام
ویمن یونیورسٹی ملتان میں امن کے عالمی دن کے موقع پر انٹرنیشنل ویب نار کا اہتمام کیا گیا، جس کا عنوان’’امن کا بین الاقوامی دن اور اندرونی امن‘‘ تھا۔
اس کی کوآرڈینیٹر چیئر پرسن سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ عائشہ خان تھیں۔
ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ پوری دنیا میں 21 ستمبر کا دن عالمی امن کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج کا انسان زیادہ باشعور، تعلیم یافتہ اور مہذب ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے سمندروں اور سیاروں تک پہنچنے کی صلاحیت عطا کر دی ہے لیکن ان سب کے باوجود آج پوری دنیا بدامنی کا شکار ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس کے اثرات مختلف جبکہ غیر ترقی یافتہ اور غریب اقوام شدید ترین تخریبی کارروائیوں کا شکار ہیں۔ شاید اس کی بنیادی وجہ انسان کے ذہن کا انتشار ہے۔ اور اس انتشار کا اظہار الگ الگ طریقوں سے کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس دن بڑے بڑے سیمینارز منعقد کئے جاتے ہیں۔ ریلیوں اور خصوصی واک کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر عمل کسی بات پر نہیں ہوتا۔عالمی اداروں کے قول و فعل میں تضاد ہے، امن کا عالمی دن تو منایا جا رہا ہے مگر آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کوتین سال ہوگئے ، وہاں ہر گھر جیل، ہسپتال اور قبرستان بن گیا ہے، وہاں انسانیت سوز داستانیں رقم کی جارہی ہیں، درندگی کی انتہا ہے لیکن امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے اس کرفیو کو ختم کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
عالمی طاقتیں اور ادارے خود امن کے عالمی دن کا مذاق بنا رہے ہیں۔ ’اسرائیل، امریکا اور بھارت ‘ ایسا مثلث ہے جو دنیا کا امن تباہ کر رہا ہے۔ بھارت نے بغیر پاکستان کی رضامندی کے کشمیر کی حیثیت بدل دی جبکہ اس کے آئندہ کے عزائم بھی خطرناک ہیں کہ پاکستان کی طرف کشمیریوں کو دھکیل دیا جائے اور پھر یہاں مہاجروں کے حوالے سے مسئلہ پیدا ہوجائے۔
امن کے عالمی دن کو ماحول سے جوڑنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ ہوگئی تو دنیا کا ماحول خراب ہوجائے گا، اور سب اس کی زد میں آئیں گے۔
فلسطین، کشمیر، برما، عراق و دیگر ممالک ریاستی دہشت گردی کا شکار ہوگئے ، مگر کسی ادارے نے اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
جمہوریت کی بات کی جاتی ہے مگر جہاں فوجی آمر یا کوئی اور حکمران جو کسی بڑی طاقت کے مفادات کا محافظ بنتا ہے تو اس کی طرف سے جو دہشت گردی ہوتی ہے۔اس پر مکمل خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔
کلبھوشن یادیو کا معاملہ دیکھیں تو کرنل رینک کے حاضر سروس جاسوس کی گرفتاری عالمی واقعہ ہے مگر اس میں دباؤ پاکستان پر ہی ڈالا گیا۔
بے لگام سوشل میڈیا بھی امن کے لیے خطرہ ہے۔اس میں جرائم کی نرسریاں بنی ہوئی ہیں، بچوں کی برین واشنگ کی جا رہی ہے، اخلاقیات تباہ وبرباد ہورہی ہیں مگر اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے بلکہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کی آڑ میں جرائم کو فروغ دیا جارہا ہے۔
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ڈاکٹر اقبال شاہ نے کہا کہ1981ء میں امن کے حوالے سے تحریک شروع ہوئی اور پھر اقوام متحدہ نے 21 ستمبر کو ’امن کا عالمی دن‘ قرار دے دیا۔
اقوام متحدہ نے امن کو صرف دو ممالک کے درمیان جنگ سے ہی نہیں جوڑا بلکہ اقوام عالم اور عوام کو غربت، بے روزگاری، نسلی امتیاز، دہشت گردی سمیت جو دیگر مسائل درپیش ہیںان سب کا خاتمہ کرنا مقصود ہے۔اس دن کا مقصد دنیا کو آگاہی دینا ہے کہ ایسے پائیدار حالات بنائے جائیں جن میں جنگ نہ ہو۔
اقوام متحدہ نے رواں سال ’امن کے عالمی‘ دن کو ’ماحول‘ سے جوڑا گیا ہے تاکہ لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی دی جاسکے۔
اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد دنیا میں امن و امان کی فضا پیدا کرنا اور ایسے اقدامات اٹھانا تھا جن سے دنیا میں امن آسکے۔اگر اقوام متحدہ دنیا کے اصل مسائل سے آگاہ ہوتا تو اس دن کو ماحول سے جوڑنے کے بجائے کشمیر سے جوڑتا اور بھارت کو پابند کرتا ہے کہ کشمیر میں مظالم بند کیے جائیں۔ ماحول اہم ہے مگر اگر دو ممالک کے درمیان معاملات اس حد تک کشیدہ ہوں کہ امن خطے میں پڑ جائے تو پھر ماحول سے زیادہ لڑائی کی وجہ اہم ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ اب ادارے کے بجائے کارپوریشن بن گیا ہے جو انوسٹرز کے پیسے سے چل رہا ہے۔ سرمایہ دینے والے ممالک اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر دوسرے ممالک پر حملے کررہے ہیں۔
یونیورسٹی آف ملائشیا کے ڈاکٹر سننان کا کہنا تھا کہ اندرونی امن کی کوششوں کو عالمی امن سے الگ نہیں کرسکتے۔ ہمارے اندرونی حالات یہ متعین کرتے ہیں کہ ہم نے بین الاقوامی سطح پر کس قسم کے اقدامات کرنے ہیں۔ امن کے حوالے سے ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے اور یہ چیلنج عالمی سطح پر بھی ہے۔
ملکی حالات کا جائزہ لیں تو گزشتہ برسوں میں دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے 2012ء سے ممالک کے درمیان کشیدگی کا ماحول پیداہوا اور جگہ جگہ پراکسی جنگوں کا آغاز ہوگیا۔
اس میں عالمی اداروں کو کردار ادا کرنا چاہیے مگر یہ اداریں قراردادوں سے آگے نہیں بڑھتے۔ جب ان ممالک کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے تو پھر یہ حرکت میں آتے ہیں مگر ترقی یافتہ ممالک کے حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
عالمی ادارے کشمیر کی بات تو کر رہے ہیں مگر بھارت پر دباؤ نہیں ڈالا گیا، دنیا میں اپنی بات منوانے کیلئے ممالک کو اپنی معیشت مضبوط بنانا ہوگا۔


















