ملتان پر خونی دیو ہیکل چمکادڑوں کا حملہ

چمکادڑوں کا سائز 1فٹ سے لیکر 4فٹ تک ہے ۔جو سرِ شام ہزاروں کی تعداد میں اپنے ٹھکانوں سے نکل آتی ہیں ،اور ملتان انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے محض 5کلومیٹر کے فاصلے پر علاقے میں پرواز شروع کردیتی ہیں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق ملتان شہر میں دیو ہیکل چمکادڑوں نے یلغار کر رکھی ہے۔ ڈی رپورٹرز کے نمائندے کے مطابق ملتان شہر میں کینٹ سے ملحقہ قاسم بیلہ کے علاقہ کے قریب سکندری نہر جسے عرف عام میں سکندری نالا بھی کہتے ہیں کے ساتھ دریائے چناب کے کے کنارے پر دیو ہیکل چمکادڑیں جنہیں MegaBatsکہا جاتا ہے نے اپنا ڈیرہ جمایا ہوا ہے۔
چمکادڑوں کا سائز 1فٹ سے لیکر 4فٹ ہے، جنہیں ڈی رپورٹرز کے کیمرہ مین نے ریکارڈ کیا ہے۔
ویڈیو ملاحظہ فرمائیں۔
ہزاروں کی تعداد میں چمکادڑیں دن کے اوقات میں سینکڑوں درختوں سے لٹکی ہوئی ہیں، اور جس جگہ انہوںنے یہ ڈیرا لگایا ہوا ہے ،وہاں پر بہت خوفناک آوازیں آرہی ہیں، جو کہ انہی چمکادرڑوں کی ہیں،دن کے وقت اس جگہ پر ماحول اس قدر خوفناک ہے کہ قریبی رہائشی علاقوں کے پالتو کتے بھی اس جگہ نہیں آتے،اور بھاگ جاتے ہیں۔
ان چمکادڑوں کی وجہ سے ان درختوں پر بسنے والے پرندے اپنے گھونسلے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔او ر مزید یہ کہ اس جگہ بہت تعفن بھی پھیلا ہوا ہے، جو کہ انہیں خوفناک چمکادڑوں کی وجہ سے ہے۔
شام ہوتے ہی ان دیو ہیکل چمکادڑوں جنہیں MegaBats کہا جاتاہے کے جھنڈ کے جھنڈ اپنے ٹھکانوں سے باہر آتے ہیں اور پورے علاقے پر پرواز شروع کر دیتے ہیں۔جس سے سارے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے،جس کے باعث اہلیان علاقہ سر شام گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ان چمکادڑوں نے ان کے گھروں کے صحن اور برآمدے تک آمدورفت جاری رکھی ہوئی ہے،جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اہلیان علاقہ کی پریشانی کی دوسری وجہ وہ میڈیا رپورٹس ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلائو کی شروعات بھی چمکادڑوں کی وجہ سے ہی ہوئی تھی، جس نے دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑھے ،اور سب کچھ درہم برہم کر دیا تھا۔
مزید یہ کہ براعظم افریقہ میں ایبولا وائرس پھیلانے میں بھی چمکادڑوں کا اہم کردار تھا، یہ بات تو طے ہے کہ اور پرندوں کی نسبت چمکاڈروں میں جراثیم اور وائرسز کو CARRYکرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
” ڈی رپورٹرز ـ” ٹیم نے دودن کی کڑی محنت کے بعد اپنےViewersکے لئے ان خوفناک چمکادڑوں کی ویڈیو ریکارڈ کی ہے جسے آپ اپنی سکرین پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
یہ ساری صورت حال دیکھنے کے بعد "ڈی رپورٹرز”کی Investigationٹیم نے جب اپنی تحقیقات شروع کیں تو یہ عقدہ کھلا کہ چمکادڑوں کی اس قسم کوMEGACHIROPTERA یا MegaBatاور Flying Fox کہا جاتا ہے، جنہوں نے پہلے بھی ستمبر کے مہینے سال 2015میں سند ھ میں کچے کے علاقے "پریالو”کے گائوں پر حملہ کیا تھا، جس سے کافی لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آئی تھیں۔
یہاں حیران کن بات یہ کہ اُس وقت بھی ان چمکادرڑوں نے آم اور کھجور کے درختوں پر ڈیرا لگایا تھا اور ساری فصل بر باد کردی تھی۔ اور اب ان MegaBats نے ملتان میں بھی ستمبر کے مہینے میں ڈیرا لگایا ہے، اور یہ بھی کہ یہاں ملتان میں بھی انہوں نے آموں کے درختوں کو ہی اپنی آماجگاہ کے طور پر چنا ہے ۔
سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ جس جگہ ان چمکادڑوں نے بسیرا کیا ہوا ہے، وہ ملتان انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے محض 5کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جہاں پر دن و رات میں متعدد فلائیٹس کی آمدورفت ہوتی ہے۔ اگر خدانخوستہ ان چمکادڑوں نے "رن وے”کی طرف رخ کرلیا تو کوئی بڑا حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ ضلعی حکام سمیت تمام انتظامیہ اس بات سے بے خبر ہے کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے۔
اس بارے میں جب وائلڈ لائف ذرائع کا کہنا ہے کہ چمکادڑوں کے یہ غول ہزاروں کی تعداد میں ہجرت کرتے ہیں، ان کی اگلی منزل کیا ہوگی، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔تاہم ان میں بیماریاں،وائرس پھیلانے کے امکانات برابر موجود ہیں۔
اہل علاقہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا فوری طور پر تدارک کیا جائے۔


















