ویمن یونیورسٹی کی طالبات نے چوک کچہری بلاک کردیا، وارڈن کو تبدیل کرنے کا مطالبہ

ملتان ویمن یونیورسٹی کی طالبات ہاسٹل فیس جبری وصول کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئیں، طالبات نے کچہری چوک بلاک کردیا اور نعرے بازی کی۔
اس موقع پر طالبات نے کہا ہم نے پانچواں چھٹا اور ساتواں سمسٹر گھر گزارا، لیکن ہاسٹل فیس وصول کی جا رہی ہے، جبکہ ہاسٹل وارڈن کا رویہ ہمارے ساتھ انتہائی غیر مناسب دھمکی آمیز تھا، وہ ہماری کرداری کشی کرتی رہیں اور ہماری ڈگری ختم کرنے کا کہتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرل ہونے والی ویڈیوز یونیورسٹی اساتذہ کےرویے کے بارے میں کھلا ثبوت ہیں، جس میں وارڈن ملکہ رانی برے رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے نقاب اورماسک کھینچے گئے ، ڈاکٹر سارہ مصدق نے جس طرح کیمسٹری کی طالبات کو گراونڈز سے بھگایا وہ سب ویڈیوز مین عیاں ہیں۔
اب ہم پر بیرونی طالبات کو لیجانے کا الزام لگایا جارہا ہے ، وائس چانسلر کو غلط بریف کیا رہا ہے۔
طالبات نے مزید کہا جب ہم ہاسٹل میں رہے ہی نہیں ہیں تو تین سنٹر کی ہاسٹل فیس وصول کرنا ظلم ہے۔
ہاسٹل وارڈن ملکہ رانی کو برطرف کر کے ان کے خلاف انکوائری کی جائے، ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اگر فیس ادا نہ کی تو ہماری ڈگریاں روک لی جائیں گی ،ہاسٹل فیس معاف نہ کی گئی تو ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
طالبات سے اظہار یکجہتی کےلئے جماعت اسلامی میدان میں آگئی
امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ڈاکٹر صفدر ہاشمی بھی طالبات سے اظہار یکجہتی کے لیے وہاں پہنچ گئے، اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طالبات کو ہراساں کرنا ظلم اور ناانصافی ہے ، یونیورسٹی انتظامی بچیوں کے آئینی جمہوری حق کو سلب کرنے کا حق نہیں رکھتی ۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا اور جائز مطالبات کے لیے جدوجہد کرنا طالبات کا آئینی جمہوری حق ہے ، لیکن افسوس کہ اس حق سے بھی انہیں محروم رکھنے کے لیے انتظامیہ میں موجود کچھ آمرانہ ذہن کی پروفیسرز کسی اور انداز میں آکر بات کرنا چاہتی ہیں جو سراسر ظلم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی طالبہ کے خلاف ایسی کاروائی ہوئی تو جماعت اسلامی لائر ونگ ان طالبات کے ساتھ ہوگا۔
ڈاکٹر صفدر ہاشمی نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہے کہ طالبات جو کورونا کی وجہ سے ہاسٹلز میں رہائش نہیں رکھ پائیں ، جنہیں ان کے سامان سمیت یونیورسٹی انتظامیہ نے بے دخل کر دیا وہ کس طرح فیس مانگ رہی ہے ۔
طالبات نے اس موقع پر کہا کہ ہم اپنے حق کے لیے آخری حد تک جائیں گی۔ظلم اور ناانصافی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ اور ملکہ رانی کے خلاف نعرہ بھی لگائے۔
اس بارے میں ویمن یونیورسٹی کی ترجمان نے کہا ہے کہ ہاسٹلز کے واجبات کا معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ قانونی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے حل کررہی ہے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا واضح موقف ہے کہ طالبات کو نظم وضبط کے دائرے میں رکھتے ہوئے تمام مسائل کا حل کیا جائے، اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں ، اس کے لئے واجبات کا معاملہ بھی متعلقہ فورم پر لیجایا جائے گاجس کی روشنی میں طالبات کو ممکنہ ریلیف دیا جائے گا۔
انہوں نے ہاسٹلز وارڈنز کو ہدایت کی ہے وہ طالبات سے شفقت سے پیش آئیں اور ان کے مسائل کو پہلی ترجیح سمجھتے ہوئے حل کریں ان کی عزت نفس کویقینی بنائیں ۔


















