Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

رواں سال کپاس کی 93لاکھ 74ہزار گانٹھیں پیدا ہوں گی

وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی کاٹن کراپ اسیسمنٹ کمیٹی کا دوسرا اجلاس وفاقی سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی طاہر خورشید کی زیرصدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں نائب صدر پی سی سی سی، کاٹن کمشنر،وفاقی وصوبائی محکموں، پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ، فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن ڈیپارٹمنٹ، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن، پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے نمائندگان اور کپاس کے کاشتکاروں نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد ملک میں کپاس کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ وفاقی سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے اجلاس کے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے اغراض ومقاصد پر اظہار خیال کیا۔
کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبد اللہ نے اس موقع پر کپاس کی فصل کا مفصل جائزہ پیش کیا ، انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ امسال ساز گار موسمی حالات اور کپاس کی اچھی قیمت کپاس کی پیداوار میں اضافہ کی ایک وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے کپاس کی مداخلتی قیمت 5ہزار فی40کلوگرام مقرر کئے جانے پر کسانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور ان کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کی وجہ سے آج جننگ فیکٹریوں میں کپاس کے بہتر اعدادوشمار دکھائی دے رہے ہیں۔صوبائی حکومتوں کے نمائندگان نے اجلاس میں کپاس کی فصل کا تخمینہ پیش کیا جس کے مطابق اجلاس میں کپاس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سال2021-22 کے لیے ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ 93لاکھ74ہزار گانٹھیں لگایا ہے جس میں پنجاب میں 54لاکھ40ہزار، سندھ35 لاکھ جبکہ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں 4 لاکھ 34 ہزار گانٹھیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button