انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی اور پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کا مشترکہ اہم اجلاس

پاکستان میں کپا س کے اعدادوشمار، ان کے ذرائع اور کپا س کی موجودہ صورتحال سے متعلق گزشتہ روزانٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی واشنگٹن ڈی سی اور پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کا مشترکہ آن لائن اجلاس منعقد کیا گیا۔
اجلاس میں ملکی وغیر ملکی کپاس کے ماہرین نے شرکت کی اور اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیلی گفتگو زیر بحث لائی گئی۔
پاکستان کی طرف سے نائب صدر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر محمد علی تالپور نے اس اجلاس کی نمائندگی کی، ان کے ہمراہ ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود اور ان کی ٹیم کے علاوہ پاکستان شماریات بیورو کے نیشنل اکائونٹس ڈائریکٹر فاضل محمود بیگ موجود تھے، جبکہ غیرملکی شرکاء میں ممبرز انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی سیکریٹیریٹ کی ماہر معاشیات مس لورینا روئز مورینو، مس پارکی وٹس، کموڈٹی ٹریڈ اینالسٹ اور دیگر اہم ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان میں پیدا ہونے والے کل کپاس کے اعدادوشمار پر بحث کی گئی اور گزشتہ برس یو ایس ڈے کی ۔
رپورٹ میں جاری کردہ پاکستان کے اعدادوشمار اور پاکستانی شرکاء کی طرف سے اس رپورٹ پر اٹھائے گئے نقطہ اعتراض پر تفصیلی گفتگو زیر بحث لائی گئی۔
نائب صدر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر محمد علی تالپور نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں کپاس سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنے کا سائنسی بنیادوں پر نہایت مئوثر اور قابل عمل سسٹم موجود ہے اور اس کے لئے سرکاری اداروں کے انتہائی قابل اور اعلی آفیسران کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔
کپاس کے اعدادوشمار کو جمع کرنے،ان کی ڈاکومینٹیشن، اور ان کو محفوظ بنانے اور سرکاری سطح پر ان کے اعلان کردہ فگرز کے لئے مختلف ادارے جیسا کہ وفاقی کمیٹی برائے زراعت، کاٹن کراپ اسیسمنٹ کمیٹی ،کراپ رپورٹنگ ڈیپارٹمنٹ مل کر کام کرتے ہیں اور بعض اوقات ممکنہ ضرورت کے پیش نظر مختلف نجی اداروں سے بھی بطور معاوین کام لیا جاتا ہے۔
یاد رہے گزشتہ برس یو ایس ڈے اے نے کپاس سے متعلق پاکستان کے کو اعدادوشمار بین الاقوامی سطح پر جاری کئے تھے ، جو 5 ملین کپاس کی گانٹھوں سے کچھ زائد تھے جبکہ حقیقی اعادوشمار جو ملکی اداروں کے قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کئے گئے وہ 7 ملین کپاس کی گانٹھیں قرار دئے گئے۔
اجلاس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ یو ایس ڈے اے کے ذرائع سے حاصل ہونے والا پاکستانی ڈیٹا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا جبکہ ملکی وفاقی اداروں اور دیگر معاوننین اداروں کی رپورٹ پاکستان کے زمینی حقائق کے عین مطابق ہیں۔


















