انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان میں تربیتی ورکشاپ

پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی نے گزشتہ روز بیداری کے تعاون سے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان میں مختلف اضلاع سے آنیوالے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹرز کی تربیتی ورکشاپ کرائی، جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف کیسز کو رپورٹ کیے جانے کی اہمیت اور طریقہ کار پر تربیت دی گئی ۔
پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن کنیز فاطمہ چدھڑ نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان کے قیام کے بعد جس طرح سے خواتین کو سہولیات ملنا شروع ہوئی ہیں اور تشدد کے خاتمے میں مدد ملی ہے اس سے ہمیں حوصلہ افزائی ملی ہے اور اب پورے پنجاب میں انسداد تشدد برائے خواتین کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کریں گے اور تمام متعلقہ ادارے اس میں شامل ہونگے۔
انہوں نے خواتین کے حقوق کیلئے عرصہ دراز سے کام کرنیوالی تنظیم بیداری کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ سماجی تنظیموں کی فلاحی کاموں میں شمولیت گورنمنٹ کو سپورٹ کرتی ہے اور آگاہی پھیلانے میں مدد ملتی ہے ۔
ارشاد واحد ڈائریکٹر جنرل وومن پروٹیکشن اتھارٹی نے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹرز کی ذمہ داریوں اور خواتین پر تشدد کے خاتمہ کیلئے ان کے کردار سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔
بیداری کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عنبرین عجائب نے اپنی گفتگو میں معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی رویوں پر بات کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کے سیشن میں خواتین باہم معذوری نے بھی بھرپور شرکت کی ہے اور ثابت کیا کہ وہ ہر طرح کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا منوا سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی سطح پر بنائی جانیوالی کمیٹیوں میں خواتین باہم معذوری کو لازمی شامل کیا جائے ۔
منیزہ بٹ انچارج انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان نے بھی گفتگو کی اور انسداد تشدد مرکز کے اغراض و مقاصد بتائے۔
سیشن کے آخر میں تمام شرکاء میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے۔


















