Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

پنجاب سیڈ کارپوریشن کے آفیسران کا سی سی آر آئی ملتان کا دورہ

پنجاب سیڈ کارپوریشن کپاس کے کسانوں کو معیاری اور خالص بیج کی فراہمی کے لئے پوری طرح کوشاں ہے اور اس سلسلے میں سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔
یہ بات پنجاب سیڈ کارپوریشن کے دو رکنی وفد اسسٹنٹ ڈائریکٹرز محمد ذیشان اور مس سعدیہ سرور نے ادارہ ہذاہ کے دورہ کے موقع پر کہی۔
ان کے دورہ کا مقصد پنجاب سیڈ کارپوریشن کے مختلف فارم پرلگنے والی کپاس کی مختلف اقسام کا جائزہ لینا اور خاص کر کپاس کی فصل کو کیڑے مکوڑوں کی مینجمنٹ سے متعلق تفصیلی آگاہی حاصل کرنا تھا۔
ادارہ ہذا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے وفد کو تجرباتی کھیتوں میں لگی کپاس کی مختلف اقسام کا وزٹ بھی کرایا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے آفیسران کو بے موسمی گلابی سنڈی کے انسداد کے لئے ادارہ ہذا میں اپنے وسائل سے تیار کردہ مشین مکینیکل بول پکر مینیجر اور کھیت میں لگے جنسی پھندوں سے متعلق تفصیلاً بریفنگ دی۔
ڈاکٹر زاہد نے وفد کو بتا کہ اس مشین کی ابتدائی لاگت پر تقریبا ً 15لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں اور پاکستان میں کپاس کے کاشتکاروں کے لئے یہ ایک اچھی خبر ہے۔ گاؤں کے کسان مل کر گندم کے تھریشر کی طرح اس مشین کو بھی اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں اگر کپاس کے کھیت میں پلانٹ پاپولیشن پوری ہے تو کپاس کی آخری چنائی کے بعد اگر فی پودا میں اوسطاً3ٹینڈے موجود ہوں تو کاشتکار اس مشین کے ذریعے اپنی فی ایکڑ پیداوار میں تین من تک کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ گلابی سنڈی سے ہر سال ایک سے دو ملین گانٹھوں کے ہونے والے نقصان سے بھی بچا جا سکے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بدلتے زمانے اور جدید تقاضوں کے پیش نظر آنے والا وقت مشینی استعمال کے لئے کافی سود مند ہوگا اور اسی کے پیش نظر سی سی آر آئی ملتان مستقبل کے چیلنجز سے نپٹنے کے لئے ہمہ وقت مستعد وتیار ہے اور ادارہ ہذا کے زرعی سائنسدان وقت کے جدید تقاضوں کو سامنے رکھ کر نئی سے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
میکینیکل بول پکر مینیجر سے چنے گئے باقی ماندہ کچے ٹینڈوں کو دھوپ میں پھیلا دیا جاتا ہے جس سے ٹیندوں میں موجود گلابی سنڈی اور اس کے لاروے سورج کی روشنی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔
مکینیکل بول پکر مینیجر کے استعمال بارے ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ اس مشین کے استعمال کا فی ایکڑ خرچہ3سے4لیٹر ڈیزل ہے جبکہ مشین کا کرایہ اور دیگر اخراجات کل ملا کر1500 سے2000روپے کل خرچ بنتا ہے۔
اگر کھیت میں فی پودا اوسطا ً3ٹینڈے ہوں تو اس مشین کے استعمال سے تقریبا ً3من اضافی پھٹی حاصل کی جا سکتی ہے جس کی مالیت12سے15ہزار روپے بنتی ہے.
مکینیکل بول پکر مینیجر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ مشین پودے سے ایک ایک ٹینڈا چن لیتی ہے اور کھیت میں صرف خالی ننگی چھڑیاں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔
اس موقع پرپنجاب سیڈ کارپوریشن کے آفیسران نے کپاس کے تحقیقی میدان میں ادارہ ہذاکے کردار کو کافی سراہا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی سی سی آر آئی ملتان کپاس کے تحقیقی میدان اور کپاس کی بحالی و فروغ کے لئے اپنا مثالی کردار ادا کرتا رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button