اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی کو مطالبات کا مراسلہ تحریر کردیا

زکریا یونیورسٹی کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے جنرل باڈی اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں وائس چانسلر کو مراسلہ تحریر کردیا، جس میں 15ستمبر تک مطالبات تسلیم کرنے کی ڈیڈ لائن جاری کی گئی ہے، جس کے بعد احتجاجی پلان کا اعلان کیا گیا۔
اے ایس اے کی سیکرٹری کی طرف سے لکھے گئے مراسلے میں کہاگیا ہے کہ ایسوسی ایشن کا تین ستمبر کو ہونے والا اجلاس تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس تھا جو 5 گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس میں تمام اساتذہ کے مطالبات اور تحفظات زیر بحث آئے، اجلاس میں آپ کی طر ف سے کئے گئے اقدامات کی تعریف تو کی گئی مگر سلیکشن بورڈ اور اساتذہ کی عزت و تکریم بارے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں جو قرارد دار پاس کی گئی پیش کی جارہی ہے تاکہ ان مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے ورنہ اساتذہ کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا، سلیکشن بورڈ اجلاس کے اختتام پر ہمیں یقین دلایا کہ تمام موخر اور پختہ کیسز آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔
بورڈ کا اگلا اجلاس ستمبر میں بلایا جائے گااس لئے اگلے سلیکشن بورڈ کو 15 ستمبر 2025 تک مطلع کیا جائے۔ تمام تر کوائف مکمل ہونے کے باوجود پروموشن کیسز کو موخر کرنے کا روائی یا منسوخی کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے, یہ یونیورسٹی ایکٹ اور ٹیچنگ کمیونٹی کی توہین ہے, اس لئے یوان فوری مطالبہ کرتا ہ ہے کہ اس مایوس کن اور غیر منصفانہ عمل کو ختم کریںاساتذہ پر کام کا بوجھ بڑھانے کے فیصلے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔
اکیڈمک کونسل میں یہ ایجنڈا مسترد کردیا گیا، سینڈیکیٹ اس کا مجوزہ پلیٹ فارم نہیں ہے اس لئے کام میں اضافے کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔
تقریباً 50 پی ایچ ڈی لیکچررز اور بہت سے اسسٹنٹ/ایسوسی ایٹ پروفیسر اس کے بعد پروموشن کے منتظر ہیں، اساتذہ کی ترقیوں کے لیے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا، آپ کے دفتر کی طرف سے بار بار کی یقین دہانیاں ادھوری رہیں، اسلئے فوری طور پر آسامیوں کے اشتہارات جاری کیا جائے۔
نئی چھٹیوں کی پالیسی بنانا، یونیورسٹی ایکٹ اور پنجاب حکومت کی چھٹی پالیسی کی خلاف ورزی ہے جس کو فوری طور پر مسترد کیا جاتا ہے، جزوقتی ادائیگی میں بلا جواز تاخیر تدریسی بل قابل قبول نہیں ہیں، فیکلٹی اراکین کو ایک مالی سال میں دوسری بار اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
ادائیگیاں اس وقت تک روکی جاتی ہیں جب تک کہ کوئی وائس چانسلر سے درخواست نہ کرے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جز وقتی تدریسی ادائیگیاں فوری اور بلا تاخیر کی جائیں
پی ایچ ڈی طلباء کو جزوقتی تدریس کا معاوضہ 10ہزار روپے فی سمسٹر، انتہائی نامناسب اور یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہے ، آج کے دور میں سیاق و سباق، روپے کی ادائیگی پانچ ماہ کی پڑھائی کا معاوضہ 10 ہزار دینا توہین ہے، اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔
فیکلٹی کے رہائشی مکانات کی دیکھ بھال کا کام کافی عرصے سے تاخیر کا شکار ہے، یونیورسٹی انتظامیہ مطلوبہ کام انجام دینے سے قاصر ہے، اساتذہ کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جارہی ہے، اس لئے مینٹیننس چارجز کی کٹوتی فوری طور پر روکی جائے۔
سنڈیکیٹ میں اساتذہ کے نمائندوں کی رائے کو نظر انداز کیا جاتا ہے، دیگر اجلاسوں میں اساتذہ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ وائس چانسلر کے ماتحت عملہ ہوں۔
دفتر ایوان اس رویہ میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے اور اساتذہ کے ساتھ ایسا سلوک بند کرنے پر زور دیتا ہے جو مطالبات اساتذہ کی طرف سے آئے ان کو 15 ستمبر تک تسلیم کئے جائیں ورنہ اساتذہ کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔




















