تعلیمی اداروں میں قادنیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ، اقلیتوں کے کوٹے پر داخلے لے لئے

احمدی ایک بار پھر متحرک ہوگئے اس بار ان کا نشانہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں انہوں نے پاکستان کی اقلیتوں کی سیٹوں پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے، جس کی وجہ سے ہندو، عیسائی ، سکھ اور دیگر اقلیتوں کے ہونہار طلبا بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔
زکریا یونیورسٹی ان کا خصوصی نشانہ بنی ہے ، جس کے تقریبا ہر ڈیپارٹمنٹ میں قادیانی طلبا کی طرف سے اوپن میرٹ کے بجائے اقلیتی کوٹہ پر داخلے کےلئے فارم جمع کرائے گئے، جبکہ فارمیسی ڈیپاٹمنٹ میں داخلہ بھی کردیا گیا۔
جبکہ اس شعبے کی انتظامیہ کو اس غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے داخلہ منسوخ کردی۔
تاہم اس طالب علم کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے کیونکہ اس کے والد محکمہ پولیس میں ڈی ایس پی کا اسسٹنٹ ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قادنیوں کو ابھی اقلیتی کا درجہ نہیں دیاگیا، 1973کے آئین کے تناظر میں قادنیوں کو اقلیتوں کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔
وہ اپنی عبادات خانے نہیں بناسکتے اور نہ ہی دین کی تبلغ کرسکتے ہیں۔
ان کی اقلیت کا کیس ابھی کابینہ میں ہے ، وہ بطور غیر مسلم رہ سکتے ہیں لیکن اقلیت کو ملنے والی سہولتوں سے استفادہ نہیں کرسکتے۔
لیکن انہوں نے اب خود اقلیت قرار دینا شروع کردیا ہے تاکے تعلیمی اداروں کے شعبوں میں باآسانی داخلہ لے سکیں جس پر شدید بےچینی پائی جارہی ہے۔
دوسری طرف حساس اداروں نے بھی احمدیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لے لیا ہے اور اس بارے میں رپورٹس بنا کر اعلیٰ حکام کو ارسال کردی ہیں۔
سماجی حلقوں نے احمدیوں کی خلاف آئین سرگرمیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔




















