امریکی قونصلیٹ جنرل ویلیم واکانے اولے کا زکریا یونیورسٹی کا دورہ

امریکی قونصلیٹ جنرل ویلیم واکانے اولے نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کئی تہائیوں پر محیط ہیں اور وقتا فوقتا مزید مضبوط ہونگے ۔
بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے دورہ پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی اور میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے امریکن قونصلیٹ جنرل نے مزید کہاکہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کی پارٹنر شپ بہت مضبوط ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی ہمار ا ایک اچھا تعلق ہے ،جسے مزید بہتر اور مضبوط کرنے کی خواہش ہے۔
انہوں نے کہاکہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ساؤتھ پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے، اور اس یونیورسٹی میں لنکن کارنر کا قیام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ زکریا یونیورسٹی کے طلباء طالبات امریکہ کی تاریخ ، کلچر ، ایجوکیشن کی سرگرمیاں اور امریکہ کی پالیسیوں کو بخوبی جاننا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہاکہ لنکن کارنر کے وزٹ پر بے حد خوشی ہوئی ہے اور اس سنٹر کو مزید فعال کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ملتان میں ملتانیوں کی مہمان نوازی سے بھی متاثر ہوا ہوں ، اور میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ اس خطے کے ہونہار طلباء اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کیاجائے۔
لنکن کارنر کے دورہ پر امریکی قونصلیٹ جنرل کے ہمراہ پبلک افیئر آفیسر برائس آئشم ، پولیٹیکل چیف کیتھلن کبلسکو نے لنکن کارنر کے مختلف شعب جات کا دورہ کیا ۔
اس موقعہ پر امریکی قونصل جنرل نے طلباء کے ساتھ ساتھ ایلومینائی کے ممبران کے ساتھ بھی ملاقات کی، اور کچھ لمحات ان کے ہمراہ گزارے ۔
دریں اثناء وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے امریکن قونصلیٹ جنرل کے ساتھ اپنے آفس میں ملاقات میں کہا کہ بہاء الدین زکریایونیورسٹی میں ملک بھر سے طلباء طالبات زیرتعلیم ہیں انہوں نے کہاکہ لنکن کارنر کا قیام امریکہ کا ایک اچھا اقدام ہے، اور اس سے یقینا طلباء طالبات کو بھرپور استفادہ حاصل کرنے کو ملتاہے۔
انہوں نے کہاکہ لنکن کارنر طلباء کو نالج کی آگاہی کے ساتھ ساتھ ایک سافٹ امیج بلڈ کرنے میں بھی مدد گار ہے ۔ وائس چانسلر نے مزید کہاکہ اس سنٹر کو مزید فعال کیاجائے، اور طلباء کو آج کے جدید دور کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں جس سے ان کا تعلق ناصرف امریکہ کے ساتھ جڑ سکتے بلکہ وہ امریکہ کی سیاسی سماجی معاشی اور معاشرتی زندگی کے بارے میں بھی جان سکیں۔
وائس چانسلر نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران امریکہ کی کچھ یادوں کو بھی امریکن قونصلیٹ جنرل کے ساتھ شیئر کیا، اور یونیورسٹی آف ایریزونا کے بارے میں بھی بات چیت کی۔
بعد ازاں اس موقع پر وائس چانسلر امریکن قونصلیٹ جنرل کو اپنی کتاب تحفتاً پیش کی، جبکہ امریکن قونصلیٹ جنرل نے وائس چانسلر کو تحفہ پیش کیا۔


















