نواز شریف سکول آف ایمیننس کے قیام کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کے جائزے کا عمل مکمل

صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس مسلسل پانچ روز تک جاری رہا، جس میں مجموعی طور پر 228 درخواست گزاروں کی جانب سے دی گئی پریزنٹیشنز کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران درخواست گزاروں کے تعلیمی وژن، انتظامی صلاحیت، انفراسٹرکچر، تدریسی معیار اور پائیدار تعلیمی ماڈلز پر مبنی تجاویز کا جامع تجزیہ کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین چیف منسٹر ٹاسک فورس برائے امتحانات مزمل محمود، چیئرمین پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ملک شعیب اعوان، ممبر چیف منسٹر ایڈوائزری کمیٹی برائے تعلیم شکیل احمد بھٹی، چیئرمین پیما علی رضا، پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اظہر (ماہر تعلیم)،سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ڈپٹی سیکرٹری (ER)علی اسد اللہ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے ڈاکٹر صائمہ ملک (اسسٹنٹ چیف) اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
منیجنگ ڈائریکٹر پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن شاہد فرید نے شرکاء کو نواز شریف سکول آف ایمیننس منصوبے کے اغراض و مقاصد، نفاذ کے طریقہ کار اور انتظامی ڈھانچے پر تفصیل سے بتایا۔
صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ نواز شریف سکول آف ایمیننس جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ اور دور رس نتائج کا حامل منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت طلباء و طالبات کو بغیر کسی فیس کے جدید طرز پر معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی، جس کے باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں کے بجائے سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوانے کو ترجیح دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف سکول آف ایمیننس میں جدید طرز کی کمپیوٹر لیب، سائنس لیب، STEAM لیب، روبوٹکس لیب اور ابتدائی جماعتوں کے لیے ECCE کلاس رومز قائم کیے جائیں گے، تاکہ طلبہ کو معیاری اور ہمہ جہت تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔



















