دو ایٹمی قوتوں کے درمیان تیسری ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی:شاہ محمود

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے پاکستان میں میزائل داغنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت‘ اگر پاکستان کی ایئر فورس مانیٹر نہ کر رہی ہوتی‘پک نہ کرتی اور رد عمل ظاہر کرتی تو بھارت کی اس حرکت سے خطے کا امن تہہ بالا ہو سکتاتھا۔ اور دو ایٹمی قوتوں کے درمیان تیسری ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی۔
دفتر خارجہ میں قائم مقام بھارتی ہائی کمیشن کو بلا کر انتباہ کیا، اور جواب طلب کیا۔
بطور وزیر خارجہ بھارت کے مناسب جواب کا انتظار ہے۔
انڈیا کی جانب سے یہ ایک بھیانک کاروائی ہے ہمیں مطمئن کیا جائے۔
امریکہ‘چین‘فرانس سمیت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو دفتر خارجہ مدعو کیا، اور اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔
بھارت کہہ رہا ہے کہ یہ حادثہ تھا۔ اگر یہ حادثہ تھا تو اسکے نقصان کا زمہ دار کون تھا۔ آپ سے یہ حادثاتی طور پر فائر ہوا۔انڈیا کا نظام اس قدر کمزور ہے تو کیا انہیں ایٹمی ہتھیار رکھنے چاہئیں۔ حادثاتی طور پر میزائل کا چل جانا بھیانک کارروائی ہے۔
میزائل سے کمرشل پروازیں متاثر ہو سکتی تھیں۔تین فلائیٹس کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
انٹرنیشنل ایوی ایشن اتھارٹی کوقوانین کی خلاف ورزی پر نوٹس لینا چاہئیے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو انسانی بنیادوں پر اس پر ایکشن لینا چاہیے۔اورذمہ داروں کو کٹہرے میں لاناچاہئے۔
انڈین میڈیا کہہ رہا ہے یہ حرکت اگر پاکستان کی جانب سے ہوتا تو میڈیا میں آگ لگ چکی ہوتی۔پاکستانی میڈیا کو اس مسئلہ کو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری ودیگر شخصیات بھی اس موقع پر موجودتھے۔
انہوں نے کہاپاکستان نے روس اور یوکرین کی جنگ کے حوالے سے بیلنس بیان دیا ہے۔ پاکستان روس اور یوکرین کے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کروانا چاہتا ہے۔
پاکستان سمجھتا ہے جنگ سے مسائل الجھتے ہیں سلجھتے نہیں۔ پاکستان نے بیس سال جنگ کا خمیازہ بھگتا۔ اور اس کی بھاری قیمت چکائی۔80ہزار قیمتی انسانی جانوں کی قربانی دی۔عالمی اداروں کو انسانی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے۔
پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد ہی یوکرین کے باشندوں کی امداد کیلئے سی ون30 طیارہ بھیجے گا۔
انہوں نے کہا بلاول بھٹو کی جانب سے پاکستانی طالبعلموں کی وطن واپسی کے حوالے سے حکومت کہاں ہے۔ کا جواب دیتے ہوئے کہابلاول بیٹا حکومت یہاں موجود ہے پاکستان کے بہت سارے طالب علم بخیریت وطن واپس آچکے ہیں۔ جو بقیہ رہ گئے ہیں ان کی بخیریت واپسی کیلئے یورپی یونین کے وزراء خارجہ سے رابطے میں ہیں۔اور انشاء اللہ بہت جلد ہمارے بچے پاکستان میں ہونگے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہندوستان کے طالب علموں کو پاکستانی بچوں کے ساتھ کھانا کھلایا اور ان کا خیال رکھا۔




















