زکریا یونیورسٹی : شعبہ خزانہ میں فائلوں کے ڈھیر، ہر طرح کے بل رک گئے ، بجلی منقطع ہونے کا خدشہ

زکریا یونیورسٹی میں خزانہ دار کا چارج نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار زندگی جام ہوگیا۔
بتایا گیا ہے کہ خزانہ دار صفدرخان کا دورانیہ ایک ہفتے قبل ختم ہوچکا تھا، مگر تاحال ان کے دوبار چارج دینے کی سمری ارسال نہ کی جاسکی، جس کی وجہ سے تمام ڈاک رک گئی ہے، ہر روز فائلوں کے ڈھیر میں اضافہ ہورہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خزانہ دار نوٹیفکیشن جاری ہونے تک کسی فائل یا بل پر دستخط نہیں کرنا چاہتے تاکے آڈٹ اعتراض نہ لگ جائے ، جبکہ رجسٹرار گورنر کی منظوری کو لازم قرار دے رہے ہیں۔
اس صورتحال میں وائس چانسلر کی غیر سنجیدگی نے یونیورسٹی حلقوں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ۔
دوسری طرف شعبہ منٹی ننس حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں بجلی کا بل ساڑھے تین کروڑ کا آیا ہوا ہے، جس کی آخری تاریخ 22ستمبر ہے اگر وہ ادا نہ ہوا تو میپکو بجلی منقطع کرسکتا ہے اور بل پر جرمانہ بھی ہوگا جو لاکھوں میں ہوگا ۔
ملازمین افسروں اورا ساتذہ نے اعلیٰ حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔


















