بارڈر ملٹری پولیس کی تنظیم نو کرنے اور اسے ایک جدید فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

ڈیرہ غازیخان کے ٹرائبل ایریا میں خدمات سرانجام دینے والی بارڈر ملٹری پولیس کی تنظیم نو کرنے، اور اسے ایک جدید فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ورچوئل اجلاس میں کیا گیا ، جس میں سردار اویس خان لغاری ایم پی اے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب علی مرتضیٰ نے لاہور سے شریک ہوئے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ر ثاقب ظفر اور ایڈیشنل آئی جی احسان صادق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان میں موجود تھے، جبکہ ڈی جی خان سے کمشنر لیاقت چٹھہ اور آر پی او وقاص نذیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کو بریفنگ دی۔
ممبر صوبائی اسمبلی سردار اویس خان لغاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہ سلیمان کے باسی بہت پرامن اور محب وطن لوگ ہیں ، اور ڈی جی خان اور راجن پور کے ٹرائبل ایریا میں بلوچ روایات کو برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایم پی میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعیناتیاں کی جائیں ، اور میرٹ اور ٹیلنٹ پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
اویس لغاری نے کہا کہ فورٹ منرو اور ٹرائبل ایریا میں امن کے قیام سے ہی سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ر ثاقب ظفر نے کہا ٹرائبل ایریا کے مکینوں کو تمام سہولیات کی فراہمی حکومت کا فرض ہے۔
انہوں نے بتایاکہ ٹرائبل ایریا میں307 پرائمری سکول، 36 مڈل اور16 ہائی سکول قائم ہیں جبکہ ٹرائبل ایریا میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے ذریعے انفرا سٹرکچر میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس احسان صادق نے کہا کہ ٹرائیبل ایریا میں امن و امان کے قیام کے لئے پنجاب پولیس بی ایم پی کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ بارڈر ملٹری پولیس کو ٹریننگ اور جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔
کمشنر ڈی جی خان لیاقت چٹھہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوہ سلیمان کا ٹرائبل ایریا 6475 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بارڈی ملٹری پولیس نے ایریا میں24 پولیس اسٹیشن قائم کررکھے ہیں، اور فورس کے پاس 32 گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ بی ایم پی کو نئی گاڑیوں اور جدید اسلحے کی ضرورت ہے۔
آر پی او ڈی جی خان وقاص نذیر نے کہا کہ ٹرائبل ایریا کے لوگوں کو مین سٹریم میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ ٹرائبل ایریا کے شہریوں کو عام پاکستانیوں کی طرح سہولیات میسر آسکیں۔
انہوں نے کہا کہ بی ایم پی کو سیکیورٹی کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔


















