Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان میں برٹش کونسل کے تعاون سے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

ترجمان کے مطابق ویمن یونیورسٹی ملتان میں برٹش کونسل کے تعاون سے خواتین کو با اختیار کرنے کا پراجیکٹ جاری ہے، جس کانام "ٹرانس نیشنل ہم آہنگی: یو کے-پاکستان تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو مشترکہ تصنیف، ریموٹ پی ایچ ڈی، اور خواتین کو با اختیار بنانے کے ذریعے فروغ دینا”ہے، جس کی فوکل پرسن رجسٹرار ڈاکٹر ملکہ رانی ہیں۔

اسی سلسلے میں اہم تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا اس دوسرے مرحلے کا عنوان’’ رکاوٹوں کو توڑنا: خواتین رہنماؤں کے لیے کام اور زندگی کا انضمام” تھا،جس کی گیسٹ سپیکر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ اشفاق، چیئرپرسن، ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک، یونیورسٹی آف دی پنجاب تھیں۔

ویمن یونیورسٹی ملتان کے کچہری کیمپس میں وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہونے والے تربیتی سیشن میں چیئرپرسنز، پی ایچ ڈی اسکالرز، اور کیو ای سی اسٹاف شامل تھا۔

ڈاکٹر ملکہ رانی نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک عورت کو جب اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتی ہے، تو اسے بے شمار مشکلات کا سامنا ہوتا ہے چاہے وہ جاب کرنا چاہتی ہو، گھر سے یا آن لائن کام کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتی ہو، ہر جگہ ایک عورت کے لیے رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔

معاشرتی باتیں اکثر حوصلہ توڑ دیتی ہیں کہ "فائدہ کچھ نہیں، اتنی محنت کا تم عورت ہو، گھر سنبھالو۔” ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خواتین کی محنت کو سراہنا اور ان کی مدد کرنا معاشرتی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ان کی حوصلہ افزائی کریں، تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے بہترین نتائج دے سکتی ہیں، لہذا، ہمیں خواتین کی قدر کرنی چاہیے، ان کی محنت کو سراہنا چاہیے اور ان کے راستے میں حائل ہونے کی بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے۔

یہ تربیتی سیشن ہمارے فیکلٹی ممبران کی پیشہ ورانہ ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور ہمارے تعلیمی پروگراموں کے مجموعی معیار کو بہتر بنائے گا یہ پروگرام ہماری خواتین کو امپاور کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے، دیہی علاقوں کی خواتین کو پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیش کررہا ہے جبکہ ورکنگ ویمن کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے راستے دکھا رہا ہے، اس پروگرام کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ اشفاق نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ خواتین کو کیرئیر کو آگے بڑھانے سے روکنے میں کوئی حقیقی رکاوٹیں ہیں، یہ اس طرح کے کیرئیر میں خواتین کو قبول اور عزت دینے میں رکاوٹوں کا معاملہ ہے، لیڈر بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہمیشہ جنس سے مخصوص نہیں ہوتیں۔ لیکن خواتین کے لیے، اہم سماجی یا ثقافتی رکاوٹیں ہیں جو انہیں قائدانہ کردار میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہیں جن میں خاندانی ذمہ داریاں اور شریک حیات/خاندان کی طرف سے تعاون کی کمی صنفی دقیانوسی تصورات ،کم ترقی یافتہ پیشہ ورانہ نیٹ ورک،کام کی جگہوں پر جنس پرستی یا صنفی تعصب جیسی رکاوٹیں اکثر ان خواتین کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہیں، جو اعلیٰ قیادت کے کرداروں میں ترقی کرنا چاہتی ہیں کیونکہ خواتین کو ان کی خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے "کم لچکدار” سمجھا جاتا ہے۔

مختلف مطالعات کے مطابق، خواتین رہنما اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ ہمدرد، بہترین نرم صلاحیتوں کی حامل، بعض اوقات زیادہ تعلیم یافتہ، اور زیادہ جذباتی پائی جاتی ہیں، تاہم اب وقت بدل رہا ہے اپنی صلاحتیوں کو آزمائیں اور آگے بڑھیں انہوں نے لیڈرشپ سکلز اور متوازن زندگی گزارنے کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی ۔

آخر میں رجسٹرار/ فوکل پرسن ڈاکٹر ملکہ رانی نے سپیکر ڈاکٹر عظمی اشفاق کو شیلڈ پیش کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button