Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی کی ڈپٹی خزانہ دار نے بھی ایک ٹیچر پر ہراسمنٹ کا الزام لگادیا

زکریا یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر ہراسانی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں یونیورسٹی کی ڈپٹی ٹریژرر ڈاکٹر شہلا گل نے ایک سینئر استاد پر دورانِ ملازمت ہراسانی اور غیر اخلاقی رویے کے الزامات عائد کرتے ہوئے “تحفظِ خواتین بمقابلہ ہراسانی ایکٹ 2010” کے تحت آزادانہ انکوائری شروع کرنے کی باضابطہ درخواست دے دی ہے۔

اس سے قبل ایک خاتون ٹیچر نے اپنے ساتھی ٹیچر پر ہراسمنٹ کا الزام لگایا تھا جس کی انکوائری کے نتائج جاری نہیں کئے گئے ۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ٹیچر کو ٹھوس ثبوت دینے میں ناکام رہیں اس تناظر میں یہ نئی درخواست بھی اہمیت کی حامل ہوگئی ہے جس میں ڈاکٹر شہلا گل نے وائس چانسلر بی زیڈ یو کو تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 20 جنوری 2026 کو پروفیسر ڈاکٹر تنویر احمد، شعبہ کلینیکل سائنسز، فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز، ان کے دفتر میں آئے اور ان کے ساتھ غیر مناسب، دھمکی آمیز اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی رویہ اختیار کیا۔

انہون نے نہ صرف زبانی طور پر ہراساں کیا بلکہ مسلسل گھورنے، نامناسب اشاروں اور غیر اخلاقی جملوں کے ذریعے ذہنی اذیت پہنچائی، ڈاکٹر تنویر احمد نے مبینہ طور پر موبائل فون کے ذریعے تصاویر اور ویڈیو بنانے کی بھی کوشش کی، جس پر واضح طور پر انہیں ایسا کرنے سے منع کیا، تاہم الزام ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر اس ہدایت کو نظرانداز کیا اور اپنا رویہ مزید جارحانہ بنا لیا۔

ڈپٹی ٹریژرر کے مطابق صورتحال کے بگڑنے اور ممکنہ جسمانی نقصان کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے فوری طور پر سکیورٹی اسٹاف کو طلب کیا۔ سکیورٹی اہلکاروں کی آمد پر بھی الزام ہے کہ استاد نے تعاون کرنے کے بجائے سکیورٹی سٹاف کو دھمکیاں دیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

بعد ازاں اپنی جان اور عزت کے تحفظ کے لیےمجھے دفتر چھوڑنا پڑا پورا واقعہ، سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی اور دفتر سے روانگی کے مناظر یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہیں، جو انکوائری کے دوران بطور شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔

اس واقعے نے شدید ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے اور یہ عمل واضح طور پر خواتین کے خلاف ہراسانی، پیشہ ورانہ بدتمیزی اور محفوظ کام کے ماحول کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کا فوری آغاز کیا جائے، ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور مقررہ مدت میں انصاف فراہم کیا جائے۔

وائس چانسلر پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ خواتین کے تحفظ، وقار اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے نمٹائے گی۔

اس بارے میں پروفیسر ڈاکٹر تنویر احمد کا کہنا ہے کہ یہ فرضی واقعہ ہے خزانہ دار کے سامنے سارا معاملہ واضح ہوا ور انہوں نے رفع دفع کرادیا تھا میرے بل دو ماہ سے رکے ہوئے ہیں جس کےلئے گیا تھا، افسوس انہوں نے بدتمیزی بھی کی اور اب الزام بھی لگا دیا، اس دن کے بعد کبھی ان کے دفتر نہیں گیا اگر انکوائری کمیٹی یاوائس چانسلر نے بلایا تو ثبوت کے ساتھ پیش ہوں گا۔

خاتون افسر پر ناجائز طور پر جائز بلوں کو روکنے اور بر وقت ادائیگیوں نہ کرنے کے الزامات پہلے سے موجود ہیں۔

واضح رہے ڈاکٹر شہلاگل حکمران پارٹی کے ایک عہدیدار (سابق چیرمین قیصر محمود گُجر) کی اہلیہ ہیں اور بطور ڈپٹی خزانہ دار کام کررہی ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button