زکریا یونیورسٹی میں خلاف قانون 50 لاکھ کی کتابیں خریدنے کی کوشش، پرچیز آفس رکاوٹ بن گیا

زکریا یونیورسٹی میں 56کروڑ سے نئی بننے والے انسٹی ٹیوٹ آف مالیکولر ٹیکنالوجی کے فنڈز ایچ ای سی دے رہی ہے ,اس کی بلڈنگ تیار ہوچکی ہے اور سامان کی خریدی کا عملہ جاری ہے جس کے پیپرا رولز کے مطابق ٹینڈر بھی ہوچکے ہیں، مگر اس کی لائبریری کےلئے کتابیں خریدنے کےلئے رولز کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ریحان صادق شیخ نے قوانین کے مطابق تمام معاملات کو تربیت دیا ہوا تھا ، مگر ان کے پنجاب یونیورسٹی جانے کے بعد خلاف قانون کےاقدام اٹھائے جارہے ہیں۔
جس کا جواز یہ بتایا جارہا ہے کہ جون سے قبل فنڈز کو استعمال کر نا ہے، ورنہ وہ لیپس ہوجائیں گے ۔
اسی تناظر میں 50لاکھ کی کتابیں بغیر ٹینڈر کی خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس انسٹی ٹیوٹ کے ایک استاد اور پرچیز آفس کے افسروں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوچکی ہے۔
ٹیچر کا موقف ہے کہ نئے قوانین کے تحت 50لاکھ روپے یا زائد رقم کی کتابیں بھی بغیر ٹینڈر کے خریدی جاسکتی ہیں ، جبکہ پرچیز آفس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین سامنے نہیں آئے اس کی کاپی فراہم کی جائے۔
کیونکہ ماضی فاصلاتی نظام تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسحاق فانی کے خلاف بھی نیب میں خلاف ٹینڈر کتابیں خریدنے کے کیسز بنے تھے اور اس وقت بھی ان پر اسی کرپشن کے الزامات کے کیسز چل رہے ہیں۔
ایسے میں وہ خلاف قانون کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے۔
جس پر دونوں دفاتر کے درمیان سرد جنگ چل رہی ہے ، پرچیز حکام کا کہنا ہے کہ ہم کسی کی خوشنودی کےلئے غلط قدم نہیں اٹھائیں گے کتابوں کا ٹینڈر ہی ہوگا من پسند ایک پبلیشر سے کتابیں نہیں خریدی جاسکتیں ۔


















