زکریا یونیورسٹی سلیکشن بورڈ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹیچرز ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار کیوں ہوئے ؟

زکریا یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ پر بے یقینی کے بادل چھانے لگے، اساتذہ نے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
12 جولائی زکریا یونیورسٹی کے بعض اساتذہ کے لئے بلیک ڈے تھا جب کی امیدیں خاک میں ملادی گئیں، خواب توڑ دئے گئے اور اندھوں نے اپنے اپنے میں ریوڑیاں تقسیم کردیں، جس سے اساتذہ ذہبی دباؤ کا شکار ہوئے، ایک ٹیچر نے یہاں تک کہ دیا اگر میری ترقی نہیں کروگے تو میرے ڈیپارٹمنٹ کی دوسری ٹیچرز کی ترقی کیسے کرسکتے، کم داخلے کا الزام لگا کر شعبہ عربی کے ٹیچر کا کیس مسترد کردیا گیا مگر اسی فیکلٹی میں سرائیکی شعبہ جس میں چند داخلے ہوتے ہیں کی ٹیچرکی پروموشن کردی گئی، جس سے اساتذہ نے سلیکشن بورڈ میں من پسند افراد کو ترقی دینے کے الزامات لگائے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکشن بورڈ میں بعض کیسز میں میرٹ نظر انداز ہوا ہے، متعدد کیسز میں وائس چانسلر پراجیکٹس کی تفصیل جاننے کے بعد ترقی کا فیصلہ کرتے رہے، ایک موقع پر ایک ٹیچر جو 10 کروڑ کا پراجیکٹ لائے اور یونیورسٹی کو 62 لاکھ کا شیئر بھی دیا مگر ان کی ترقی کا کیس مسترد کردیا اور ان کی جگہ ایسے شخص کو ترقی دے دی گئی جن کے پاس کوئی پراجیکٹ نہیں تھا اور نہ اعلیٰ کوالٹی کے ریسرچ پیپر تھے۔
اسی طرح ایک ایسے شعبہ میں بھی سابق وی سی کی سفارش پر پروفیسر بنا دیا گیا، جس میں داخلے ڈبل فگر میں بھی نھیں ھوئے، علاوہ ایگرانومی ڈیپارٹمنٹ کے کیسز بڑی تعداد میں مسترد کردئیے گئے جن میں ٹی ٹی ایس کیسز بھی شامل تھے، ٹی ٹی ایس میں تنخواہ کا زیادہ تر حصہ ایچ ای سی فراہم کرتا ہے، پروفیسرز کے کیسز میں ایچ ای سی پر سارا بوجھ پڑ جاتا مگر ان تمام اساتذہ کی ترقی روک دی گئی، صرف ایگرانومی کے چھ ٹی ٹی ایس ٹیچرز کا ماہانہ مالیاتی خسارہ چار لاکھ 31 ہزار سے روپے سے زائد ہے جس کا سالانہ خسارہ 52 لاکھ سے زائد بنے گا جبکہ دیگر شعبوں کے ٹی ٹی ایس اساتذہ کا امپکٹ دیکھا جائے تو سالانہ کروڑوں روپے یونیورسٹی پر اضافی دباؤ پڑے گا، اگر ان کی اساتذہ کو ترقی دے دی جاتی تو یونیورسٹی کے کروڑوں روپے بچ جاتے۔
ٹیچرز کا دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زبیر اپنی انا کی خاطر یونیورسٹی کو مالی نقصان پہنچا رہے ہیں اور حقدار اساتذہ کو حق نہیں دے رہے ہیں ۔
دوسری طرف اساتذہ نے سلیکشن بورڈ میں غیر متعلقہ افراد کی موجود گی پر عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا موقف ہے کہ اجلاس میں ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ کی موجودگی غیر قانونی تھی کیونکہ یہ ایکٹ کے تحت نہیں تھی جبکہ سلیکشن بورڈ میں کوئی ووٹنگ کا پراسس بھی نہیں ہوتا۔
دوسری طرف یونیورسٹی کے 16 سے زائد سینئر اساتذہ نے وائس چانسلر کو درخواست دی ہے جس میں سلیکشن بورڈ کے حوالے سے اپنے تحفظات ک اظہار کیا ہےاور مطالبہ کیا ہے کہ 12 جولائی کو ہونے والے سلیکشن بورڈ سے فیکلٹی ممبران شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہیں۔
ایک بڑے تعلیمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی ذمے داری ہے کہ اپنے افراد کو سٹریس فری بنائیں، ہمیں یقین ہے اپ اس معاملے کو ازسر نو دیکھیں گے اور درست سمت میں فیصلے کرتے ہوئے فیکلٹی ممبران ریلیف دیں گے ۔



















