Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی میں جھگڑے نہ رک سکے ؛ وائس چانسلر بھی تشدد پر اتر آئے ، دو طلباء زخمی

سیکورٹی ناکام، زکریا یونیورسٹی میں 7ویں روز بھی جھگڑے ، دو طلبا زخمی،ا سلحہ پکڑا گیا وائس چانسلر نے ذہنی دباو کا شکار ہوکر ملازم کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ۔

زکریا یونیورسٹی میں لڑائی جھگڑے کنٹرول نہ ہوسکے ، آر او سیکورٹی آفیسر اور ان کی ٹیم شرپسند طلباء کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگی ۔

ساتویں روز بھی تنظیمیں آمنے سامنے آگئیں ، پہلا جھگڑا فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ہوا ،جہاں پانچویں سمسٹر کے طالبعلم دانیال کو پیپر کے دوران چیئرمین ڈاکٹر دین محمد زاہد کی موجود میں پی ایس ایف کے فیصل ڈھلو، ناصربڈانی وغیرہ نےشدید تشدد کا نشانہ بنایا ، جس سے اس کا سرپھٹ گیا حملہ کرنے والے طلبہ کی تعداد دو درجن سے زائد تھی موقع پر موجود ڈیپارٹمنٹ کے اساتزہ اور سیکیورٹی طالبعلم پر تشدد ہوتے دیکھتی رہے ۔

بعد ازاں وائس چانسلر اور یونیورسٹی سیکورٹی پہنچ گئی ، موقع سے پسٹل گولیوں سے بھری ایک میگزین, راڈ اور ڈنڈے اپنی تحویل میں لے لیئے۔

دوسری لڑائی جعفر کنٹین پر ہوئی جہاں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں نے پی ایس ایف کے ایک طالب علم مار پیٹا جس سے ان کے منہ ناک سے خون نکل آیا، تاہم قریب کھڑے دیگر طلبا نے اس کو بچایا ۔

حسب معمول سیکورٹی آنے قبل تشدد کرنے والے فرار ہوگئے ۔

اس کی اطلاع ملتے ہی وائس چانسلر موقع پر آنے لگے تومین کیفے ٹیریا پر بیٹھے سینئر کلرک رانا زاہد کو تشدد کا نشانہ بناڈالا ، پریشانی کے عالم میں وائس چانسلر بھی ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔

موقع پر موجود افراد کے مطابق شعبہ مینٹیننس کے سئنیر کلرک زاہد ریاض کیفے ٹیریا پر بیٹھا تھاکہ وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی، آر او طاہر محمود اور سیکیورٹی آفیسر چیکنگ کے لیے کیفے ٹیریا پہنچے آر او کی جانب سے بغیر تصدیق کے ملازم زاہد ریاض پر تھپڑوں کی بارش کردی، جس پر وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے بھی ملازم کو تھپڑ مارے ، جس کے بعد سیکیورٹی آفیسر محمد زاہد اور سیکیورٹی گارڈز نے بھی ملازم کو تشدد کانشانہ بنایا جبکہ ملازم زاہد ریاض چلاتا رہا کہ میں یونیورسٹی ملازم ہو ، مگر کسی نے ایک نہ سنی ،وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کے مطابق میں نے ملازم سے پوچھا تم کون ہو اس نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ میں آؤٹ سائیڈر ہے۔

ایمپلائز یونین کی جانب سے معاملہ اٹھانے پر وائس چانسلر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے ملازم سے معذرت کرلی۔

یونیورسٹی میں آئے روز ہنگاموں نے کیمپس کی سیکورٹی کے حوالے سےسوال کھڑے کردئے ہیں ،جس کی وجہ سے وائس چانسلر پر سیکورٹی انتظامیہ تبدیل کرنے کےلئے دباو بڑھ رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button