طلباء کا دھرنا بھی کام نہ آیا ، بوائز ہاسٹلز میں پانی کی سپلائی بحال نہ ہوسکی
زکریا یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کے کئے گئے فیصلے کیمپس میں رہائش پذیر عملے اورطلباکےلئے عذاب بن گئے، فیکلٹی سائڈ کے ٹیچر کو پی ڈی بنانے دینے کا ناکام تجربہ اس وقت تمام اساتذہ ، ملازمین اور افسروں کےلئےالمیہ بن گیاہے۔
اتوار کی صبح سول ورک کےدوران ہاجرہ ہال کے عقب سے گزرنے والی واٹرسپلائی پھاڑ دی گئی، جس سے پوری یونیورسٹی میں پانی ناپید ہوگیا، لوگوں کوشدید مشکلات کاسامناکرنا پڑا ۔
یہ بھی پڑھیں۔
ویڈیو ملاحظہ فرمائیں۔
جس پر رات گئے طلبا نے احتجاج کرنا شروع کردیا، ہاسٹلز کے تمام طلباء نے وی سی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا، اور وائس چانسلر کے ساتھ منٹی نینس والوں کے خلاف نعرے بازی کی
جس کے بعد انتظامیہ نے صبح 8 بجے تک پانی کی بحالی کا وعدہ کیا جس کے بعد یونیورسٹی کے شعبہ منٹی نینس والوں نے کام شروع کیا، صبح چار بجے کام مکمل کیا ۔
مگر بوائز ہاسٹل میں سوموار کی رات تک پانی کی فراہمی شروع نہ ہوسکی جس پر طلبا نے پھر احتجاج شروع کردیا، شدید سردی میں ہاسٹلز کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ابوبکر ہال ,عمر ہال ,عثمان ہال,آمنہ ہال ,عائشہ ہال سمیت ہاسٹلز میں پانی ایک بوند تک نہیں ، طلبہ پینے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے مگر انتظامیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی۔
طلبہ سے ہزاروں روپے فیسز وصول کر لی جاتی ہے مگر طلبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
شعبہ منٹی نینس سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا فائنل ٹرم کے پیپر بھی ہیں انتظامیہ کی غفلت اور بے حِسی کی انتہاء نا قابل قبول ہے۔
وائس چانسلر نے اپنے چہتے ٹیچر کو پی ڈی منٹی نینس لگادیا ہے جس کو کچھ پتا نہیں ہے جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتے دھرنا جاری رہے گا، اور دھرنے کو وسیع بھی کریں گے۔



















