زکریا یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کا اجلاس ، بجٹ منظور، طلبا سے 5سو روپے پیڑول کی مد میں اضافی وصول کرنے کافیصلہ

بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کی سنڈیکیٹ کااجلاس زیرصدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی منعقد ہوا۔
اجلاس میں جسٹس سید شہباز علی رضوی ، پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر علیم احمد خان ، ایچ ای سی کے نمائندہ رضا چوہان ، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے شاہسوار ، ڈاکٹر فرحت ظفر ، شمائلہ خالق ، ایڈیشنل سیکرٹری ایچ ای ڈی شاہد زمان لک ، رجسٹرار صہیب راشد خان ، ٹریژار صفدر عباس ، ایم پی اے محمد ندیم قریشی ، ڈاکٹر محمد ریاض ، ڈاکٹر جویریہ عباس اور انجینئر محمد یوسف رضا نے بطور ممبر شرکت کی۔
اجلاس میں سال 2022-23 کے سالانہ بجٹ کی منظوری دی گئی ۔
اجلاس میں 6 ارب 38 کروڑ 72 لاکھ روپے کے بجٹ پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور متفقہ طو رپر ایف اینڈ پی سی کے منٹس کے ساتھ بجٹ کو منظور کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں حکومت پنجاب شعبہ فنانس کے ممبران نے سالہا سال بجٹ میں ریفلیکٹ کرنے والی خالی پوسٹوں کو ختم کرکے خسارہ کو کم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ جن سے تمام ممبران نے اتفاق کیا۔
اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے طلباء طالبات سے 5سو روپے کی اضافی رقم لینے کی بھی منظور ی دی۔
اجلاس میں گزشتہ سلیکشن بورڈ کے منٹس کے منظوری بھی دی گئی ، اور اس موقعہ پر بی پی ایس ، ٹی ٹی ایس پرموشن سمیت متعدد عدالتی معاملات کے حوالے سے اساتذہ کی پرسنل ہیئرنگ بھی کی گئی جن کے کے فیصلہ بعدازاں کیے جائیں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ یونیورسٹی میں ڈیلی پیڈ پر کام کرنے والے ملازمین کا تجربہ کسی بھی طور پر تصور نہیں کیاجائے گا۔
اجلاس میں وہاڑی کیمپس کی نئی بلڈنگ کی تعمیر تک کیمپس کو موجودہ بلڈنگ سے ایک نئی بلڈنگ میں شفٹ کرنے کی منظوری دی گئی۔ جو کہ ماہانہ کرایہ کی بنیاد پر حاصل کی جائے گی۔
اجلاس میں بنکوں میں آن لائن اپلائی کے لیے وصول کیے جانے والے بنک چارجز کو ختم کرانے کے لیے بنکوں حکام سے مذاکرات کرنے کی منظوری دی گئی, جبکہ یہ بھی طے پایا کہ اس مد میں طلبا طالبات 25 روپے سروس چارجز از خود برداشت کریں گے۔ یونیورسٹی اس ضمن میں کوئی بھی اضافی بوجھ برداشت نہیں کرے گی۔
اجلاس میں یونیورسٹی انویسٹمنٹ پالیسی پر بھی غور کیاگیا جس میں متفقہ طو رپر طے پایا کہ یونیورسٹی مختلف بنکوں میں رقم انویسٹمنٹ کرے گی۔ا
اجلاسمیں طے پایا کہ ریٹائر منٹ کے بعد پروفیسر حضرات ایچ ای سی کی پالیسی کے مطابق ری اپمپلائمنٹ کے لیے اپلائی کریں گے ج، جبکہزیادہ سے زیادہ عمر کی حد 70 سال ہوگی۔ ا
جلاس میں لیگل ایڈوائزر کی پوسٹ پر مناسب امیدوار کی تعیناتی کے لیے وائس چانسلر خو د فیصلہ کریں گے۔ا
اجلاسمیں ٹی ٹی ایس اساتذہ کرام کی پرموشن اور پوسٹوں کی تعیناتی کو ایچ ای سی کی پالیسی کے ساتھ منسلک کردیاگیاہے۔
اس موقع پر اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ریاض نے ایک مراسلے کا حوالہ دیا کہ ٹی ٹی ایس کی پروموشن کے حوالے سے ایچ ای سی کا مراسلہ ہے جس میں بی آر سی سے ترقی کاتعین کیا جاتا ہے جس پر ایچ ای سی کے نمائندہ رضاچوہان نے کہا کہ یہ مراسلہ ٹیچرز کے ایک گروپ کے پریشر پر جاری کیا گیا تھا ج، جسکو اب واپس لیا جارہا ہے اس لئے ترقی کا تعین سلیکشن بورڈ سے کیا جائے گا،۔
اجلاس میں پروفیسر آف زوآلوجی کے ایک پروفیسر ڈاکٹرفرحان کی اہلیت کے حوالے ایک عرصہ دراز سے زیرالتوا کیس کو نمٹا ددیاگیا، اور اس ضمن میں انکوائری کمیٹی کے فیصلہ کو ہی برقراررکھا گیا کہ ااور ان کی ترقی کے کیس کو چلانے کی منظوری دے دی گئی ج۔
جس پرووائس چانسلر ڈاکٹر علیم نے اس فیصلہ کے خلاف اپنے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر فرحان کی ترقی اس ڈیپارٹمنٹ میں نہیں بنتی اگران کو ترقی دینی ہے تو ان کو پابند کیاجائے کہ وہ کسی ایڈمنسٹریٹو پوسٹ کےلئے اہل نہیں ہوں گےگے،اہم ہاوس نے ان کا اعتراض مسترد کردیا،۔
اجلاس میں ایک پروفیسر کی سٹڈی لیو کے بعد دوبارہ سٹڈی لیو لینے اور دیگر معاملات سے متعلق فیصلہ دیا گیا کہ پی او ایل کو چیلنج نہیں کیاجاسکتا لہذا ان سے تمام ریکوری کی جائے۔ا
اجلاسمیں اکیڈمک کونسل کے منٹس کی منظوری بھی دی گئی۔جبکہ ایفیلیئشن کمیٹی کے منٹس کے بھی منظوری دی گئی۔ ا
جلاس میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر حیات محمد اعوان کے دور میں ملنے والے ایک پراجیکٹ کے حوالے سے پندرہ سال کے بعد ٹی اے ڈی اے بلوں کو نا منظور قرار دیا گیا۔ا
اجلاسمیں پرنسپل لاء کالج کی سکالرشپ اور ان کی ملازمت کے حوالے سے اعتراضات پر تفصیل سے غور کیاگیا۔ اور متفقہ طو رپر ان اعتراضات کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کیس کو نبٹا دیاگیا۔ا
اجلاسمیں ایک سال کے لیے ٹرائل بیس پر ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کے ساتھ ملازمین اساتذہ کرام کو صحت کی سہولیات دینے کے حوالے سے منظوری دی گئی۔، اورطے پایا کہ ہیلتھ کارڈ کے ساتھ ساتھ انشورنس کمپنیاں مزید کیا سہولیات فراہم کرسکتی ہیں لیکن اس ضمن میں قواعد و ضوابط کا خاص خیال رکھا جائے گا۔د
دریںاثنا اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ریاض ، اور سیکرٹری ڈاکٹر فرخ ارسلان صدیقی نے سلیکشن بورڈ کے منٹس منظور ہونے اور ترقی پانے والے اساتذہ کو مبارک باد دی ہے اور کہا کہ اے ایس اے کی مشترکہ کاوشوں سے اساتذہ کے مشاہرے میں بھی اضافہ کردیاگیا، پارٹ ٹائم اور پیپر چیکنگ/مارکنگ مشاہرہ میں اضافہ کی منظوری سے اساتذہ کا ایک مطالبہ منظور ہوگیا ہے ، مستقبل میں بھی اساتذہ کی فلاح وبہود کےلئے کام جاری رکھا جائے گا۔




















