زکریا یونیورسٹی میں ایک اور ہراسمنٹ کیس کی بازگشت
اسسٹنٹ پروفیسر کا لیٹر سامنے آگیا

زکریا یونیورسٹی میں ایک اور ہراسمنٹ کیس کی بازگشت،اسسٹنٹ پروفیسر کا لیٹر سامنے آگیا۔
زکریا یونیورسٹی میں ماضی میں طالبات کو ہراساں کرنے کے کیس تو سامنے آتے رہے ہیں اب خواتین اساتذہ کو بھی ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سیاسی بتائی جاتی ہے۔
ایسا ہی واقعہ شعبہ اردو میں پیش آیا جہاں چیئرمین ڈاکٹر ممتازکلیانی پر ان کی ماتحت ڈاکٹرشازیہ نے ہراساں کرنے کاالزام لگایا اور وائس چانسلر سمیت رجسٹرار، ڈین فیکلٹی آف اسلامک سٹیڈیز اورلینگویجز اورچیئرمین یونیورسٹی ہراسمنٹ کمیٹی کو ایک لیٹر بھی ارسال کردیا جس میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ عبرین نے چیئرمین شعبہ کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ تین اپریل کو سرکاری چھٹی کے روز مجھے غیر حاضر قرار دے کر وضاحتی لیٹر جاری کیا گیا۔
امتحانی نظام الاوقات کے ضمن میں میری سفارشات کو 29مارچ کو آپ کے سپرد کی گئیں جنہیں آپ نے ڈاکٹر خاور نوازش کو چیک کرانے کا کہ کر اپنی میز کی دراز میں رکھ لیں، جس کے بعد پورا ہفتے ڈیٹ شیٹ آویزاں نہیں کی گئی نا ہی اساتذہ کو بتایا گیا ڈیٹ شیٹ میں تاخیر کی وجہ آپ خود بنے ہیں کیونکہ کئی بار آپ کو یاد دہانی کرائی گئی ۔
قانون کے مطابق ڈیٹ شیٹ صرف شعبہ کے کنٹرولر امتحانات کے دستخط سے جاری ہوتی ہے مگر اس پر ڈاکٹر فرزانہ کوکب کے دستخط کراکے جاری کردی گئی یہ غیر قانونی عمل کیوں کیا گیا اس کی انکوائری کی جانا ضروری ہے جب سے آپ شعبہ کے چیئرمین بنے ہیں متعدد بار زبانی و رتحریری طور پر ہراساں کررہے ہیں اپنے رفقا کار کےساتھ غیر شائستہ اور ہتک آمیز انداز گفتگو کرنا کسی طور مناسب نہیں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں گزشتہ 13 برس سے کنٹرولر امتحانات ہوں کبھی کوئی شکایات سامنے نہیں آئیں امید ہے شعبہ کا ماحول سازگار بنایا جائے گا۔
اس کے جواب میں شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر ممتاز نے ایسے الزامات کو ماننے سے انکار کردیا ان کاکہنا تھا کہ جمعہ کو ڈیٹ شیٹ جاری کرنا تھی ، لیکن انچارج امتحانات ڈاکٹرشازیہ عنبرین بغیر اجازت کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر تھیں جس پر ان سے وضاحت طلب کی گئی اور فوری طور پر ان جگہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب کو انچارج امتحانات تعینات کردیا جنہوں نے ڈیٹ شیٹ جاری کی جواب طلبی پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔





















