’’حیوانات میں جنیاتی تغیر کا تصور اور اخلاق فقہ اسلامی کے تناظر میں تجزیاتی مطالعہ‘‘محمد مسلم کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کی سفارش

ملتان(خصوصی رپورٹر)بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان کے شعبہ علوم اسلامیہ کے پی ایچ ڈی سکالر محمد مسلم کا مجلسی دفاع وڈیو کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔
ان کے مقالے کا عنوان ’’حیوانات میں جنیاتی تغیر کا تصور اور اخلاق فقہ اسلامی کے تناظر میں تجزیاتی مطالعہ‘‘ تھا۔ ان کے سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال ڈائریکٹر اسلامک ریسرچ سنٹر تھے۔جبکہ بیرونی ممتحن ڈاکٹر محمد ابراہیم جامعہ الازہر مصر ، ڈاکٹر نور محمد عثمانی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیاء ، اور ڈاکٹر عبدالعلیم اچکزئی بلوچستان یونیورسٹی تھے۔
فاضل مقالہ نگار محمد مسلم نے مکالمے میں جینیاتی متغیر حیوانات کی شریعت اسلامی کی روح سے مشروعیت ، نفع و ضرر کے اعتبار سے شریعت اسلامی کے اصولوں کا اطلاقی پہلو کازکر کرتے ہوئے جینیاتی متغیر حیوانات کی حلت و حرمت پر مفصل بحث کی۔
اس کے علاوہ حیوانات کی جینیاتی تغیر کے ذریعہ سے ادویاتی مادوں کے اصول اور انسانوں میں ٹرانسپلانٹ کرنے کے لیے اعضاء کے حصول کے امکانات پر مفصل بحث کی۔ اور اس ضمن میں انسانی و حیوانی حقوق کی حدود کے تعین کے لیے بھی سفارشات پیش کی گئیں۔
فاضل مقالہ نگار نے انسانوں ، حیوانات ، مائیکرو ایگزمز اور پودوں میں باہم جینیاتی تغیرات اور ان کے تغیرات کے مقاصد حد بندی جواز و عدم جواز کو نہ صرف موضوع بحث بنایا بلکہ انسانوں میں تقسیم نسل کے سلسلہ میں کی جانے والی کاوشوں کو نہ صرف شرف انسانی کے منافی قرار دیا۔ بلکہ اختلاط نسبت موجد قرار دیتے ہوئے اسے باقی تمام انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔
اس موقعہ پر ایکسٹرنل ایگزامینر ڈاکٹر عبدالعلیم اچکزئی نے موضوع کی اہمیت کو سراہتے ہوئے اسے ایک اچھوتا کام قرار دیا۔ اور اسلامک علمی دنیا میں جینٹکس کے مباحث کا نقطہ آغاز قرار دیا ۔
چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے مقالے کی تحسین کرتے ہوئے اسے جلد از جلد شائع کرنے کی سفارش کی۔
سپروائزر و ڈائریکٹر اسلامک ریسرچ سنٹر ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال نے زکریایونیورسٹی کی طرف سے ایک قابل فخر علمی کارنامہ قرار دیا۔
اس موقع پر سراب روڈ کالج کوئٹہ ڈاکٹر سید باچہ آغا ، ڈاکٹر سعید الرحمن ، ڈاکٹر جمیل احمد نتکانی ، ڈاکٹر حامد علی اعوان ،ڈاکٹر عبدالقادر بزدار ،ڈاکٹر رضیہ شبانہ ، ڈاکٹر منزہ حیات ، ڈاکٹر فریدہ یوسف ، ڈاکٹر سائرہ ، ڈاکٹر قاریہ نسرین اختر بھی موجود تھیں ۔


















