زکریا یونیورسٹی کے سکالر کی افغانستان کے موجودہ حالات پر ایک ریسرچ کے نتائج 7سال بعد سچ ثابت ہوئے

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر نے 2014 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور اور اس کی بین الاقوامی قانون میں حیثیت کے حوالے سے سے پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔
اس مقالے میں آج سے سات سال پہلے انہوں نے جن شبہات کا اشارہ دیا تھا، اور جو تحقیق کی تھی آج سات سال بعد افغانستان کے حالات تقریباً ویسے ہی ہیں۔
انہوں نے اپنی ریسرچ میں میں لکھا تھا کہ اگر امریکہ افغانستان سے اچانک انخلاء کرتا ہے تو افغانستان میں دوبارہ 1990 والی صورتحال حال ہو جائے گی۔ اچھے اور برے طالبان کی بحث نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے کے دونوں اتحادیوں امریکہ اور پاکستان کے راستے تقریبا الگ کر دیے۔
انکی تحقیق کے مطابق اس جنگ میں میں افغانستان اور پاکستان دونوں ہی بڑے سٹیک ہولڈر ہیں، لیکن ان ممالک میں رہنے والے والے باشندوں کی ایک کثیر تعداد نے مجبوری کے طور پر امریکہ اور اس کی بنائی ہوئی افغان حکومت کو تسلیم کیا۔
اس تحقیق میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جیسے ہی امریکہ افغانستان سے نکلےگا، نہ صرف طالبان بلکہ دوسری اندرونی اور بیرونی طاقتیں بھی اپنا اثر رسوخ افغانستان میں قائم کرنے کے لیے متحرک ہو جائیں گی۔
ڈاکٹر مقرب نے اپنی تحقیق میں سات سال پہلے یہ لکھا تھا کہ امریکہ کے لیے یہ جنگ جیتنا مشکل ہو گا اور امریکی انخلاء کے بعد طالبان دوبارہ افغانستان پر قبضہ کر سکتے ہیں، اور اور پاکستان پر اس کے سنگین اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنی تحقیق میں اس بات کا بھی برملا اظہار کیا تھا کہ امریکہ کی تاریخ ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ اپنے مقاصد پورا کرنے کے بعد پاکستان کو دوراہے پر چھوڑ جاتا ہے ، اور اس دفعہ بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہوگی، اور سات سال بعد ایسا ہی کچھ ہوا۔
انہوں نے نے اپنی سفارشات میں لکھا تھا کہ پاکستان کو نان سٹیٹ ایکٹرز کی مدد نہی کرنی چاہیے، بلکہ امریکہ اور مختلف دیگر کو چاہیے کہ وہاں کے مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے، اور تمام بڑے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر قومی حکومت قائم کی جائے۔
اگر اس وقت ایک قومی حکومت قائم کی جاتی تو آج افغانستان کے حالات مختلف ہوتے۔




















