Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

چانسلر/گورنر پنجاب نے ویمن یونیورسٹی میں ڈسپلن کوڈ کے نفاذ کو قابل ستائش قرار دے دیا

ترجمان کے مطابق چانسلر گورنر سردار سلیم حیدر سے ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور یونیورسٹی میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

انہوں نے چانسلر کو یونیورسٹی کی فلڈ ڈرائیو اور امدادی اشیا کی تقسیم کے بارے میں اور یونیورسٹی میں ڈسپلن کوڈ نافذ کرنے کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ طالبات کوجدید طریقہ ہائے علم وتدریس اور تحقیق سے آراستہ کیا جارہا ہے، ڈسپلن کو سخت کرتے ہوئے فیکلٹی ممبران کو کلاسز برقت لینے اور طالبات کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کا پابند کردیا گیا ہے ،اوقات کار میں نماز کے وقفے سمیت ایک گھنٹے کی رعایت بھی دی گئی، اس اقدام کو فیکلٹی اور سٹاف ممبران کی طرف سے سراہا گیا ہے۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ ڈسپلن اور وقت کی پابندی تعلیمی معیار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ہر اقدام کا مقصد طالبات کو ان کے تعلیمی حقوق فراہم کرنا اور اساتذہ و عملے کو متوازن روٹین دینا ہے تاکہ ادارہ خوش اسلوبی سے آگے بڑھ سکے۔

اس پر گورنر پنجاب نے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر کلثوم پراچہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈسپلن کسی بھی ادارے کی ترقی کےلئے ضروری ہے، خصوصاً تعلیمی ادارے ڈسپلن کے بغیر نہیں چل سکتے ، پبلک سیکٹر کے اداروں کے بارے میں اس حوالے سے مثبت رائے نہیں ملتی لیکن ویمن یونیورسٹی نے ڈسپلن کے ساتھ فیکلٹی ممبران اور عملے کو طالبات کی خدمت کے لئے مامور کرکے بڑا قدم اٹھایا ہے جو قابل ستائش ہے اور دیگر تعلیمی اداروں کو بھی اس کوفالو کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی ملتان کا یہ ماڈل پنجاب کی دیگر جامعات کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ایک محنتی، وژنری اور طلبہ دوست تعلیمی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈسپلن اور وقت کی پابندی کے ذریعے انہوں نے طالبات کے تعلیمی حقوق کا تحفظ کیا ہے اور کلاسز کو باقاعدگی سے یقینی بنا کر اعلیٰ تعلیم کی اصل روح کو بحال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں اسی وقت ترقی کر سکتی ہیں جب تعلیمی فضیلت کے ساتھ مضبوط انتظامی نظم و ضبط ہو ، ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے تعلیمی اور انتظامی معاملات میں وقت کی پابندی، شفافیت اور موثر نگرانی کا وژن قابل تقلید ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button