Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

کامرس کالجز کی آوٹ سورسنگ یا نجکاری، حکومت نے اراضی کا تخمینہ مانگ لیا

حکومت کی جانب سے کامرس کالجز کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر جاری بحث ایک نئے اور چونکا دینے والے موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایک ایسا پرفارما سامنے آیا ہے جو اعلیٰ حکام نے ماتحت دفاتر کو ارسال کیا ہے، جس میں صوبے بھر کے 76 کامرس کالجز کی زمین اور پراپرٹی کی مالیت کا باقاعدہ تخمینہ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس پیش رفت نے حکومت کے اس مؤقف پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ یہ عمل نجکاری نہیں بلکہ محض آؤٹ سورسنگ تک محدود ہے پرفارما میں ماتحت دفاتر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں واقع کامرس کالجز کی زمین کا رقبہ معلوم کریں اور متعلقہ علاقے کے ڈی سی ریٹ فی مرلہ کے مطابق ہر کالج کی مجموعی قیمت کا حساب لگائیں، اس مقصد کے لیے ایک واضح مثال بھی دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کی ابہام باقی نہ رہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کالج کی زمین 25 کنال (یعنی 500 مرلے) پر مشتمل ہو اور اس علاقے کا ڈی سی ریٹ فی مرلہ 5 لاکھ روپے ہو تو اس کالج کی زمین کی مجموعی مالیت 25 کروڑ روپے بنتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے اگر اوسطاً ایک کالج کی زمین کی قیمت 25 کروڑ روپے لگائی جائے تو صوبے کے 76 کامرس کالجز کی مجموعی زمین کی مالیت تقریباً 19 ارب روپے بنتی ہے۔

پرفارما میں تمام کالجز کی علیحدہ علیحدہ قیمت نکال کر مجموعی مالیت بتانے کی بھی ہدایت شامل ہے۔

تعلیمی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا مقصد صرف تعلیم کی فراہمی تک آؤٹ سورسنگ تھا اور پراپرٹیز کو سرکاری تحویل میں رکھنا تھا تو پھر زمین کی قیمتوں کا اس انداز میں تخمینہ کیوں لگایا جا رہا ہے۔

اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ کہیں پس پردہ مکمل نجکاری یا پراپرٹی کے کاروباری استعمال کی تیاری تو نہیں کی جا رہی اس معاملے پر اساتذہ تنظیموں، طلبہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا امکان ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام نہ رہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button