Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

کپاس کی پیداوار کی حکمت عملی زرعی یونیورسٹی کی میزبانی میں اہم امیٹنگ کا انعقاد

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں کپاس کی پیداوار کی حکمت عملی کے حوالے سے میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

میٹنگ کی صدار ت رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز)نے کیاس موقع پر ڈاکٹر صغیر احمد ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان نے پچھلی دہائی کی پیداوار کا 2021 میں حاصل کردہ پیداوار سے موازنہ حاضرین کے سامنے پیش کیا۔

ماہرین کے مطابق موجودہ پیداوار اور قیمتوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے پنجاب میں زیر کاشت رقبہ تقریبا 40 لاکھ تک بڑھ سکتا ہے۔جو کہ بلوچستان، چولستان اور دیگر مختلف علاقوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے سیزن کے دوران کپاس کی زیادہ پیداوار کے عوامل پر غور ضروری ہے۔ڈاکٹر انجم علی بٹر(ڈی جی ایکسٹینشن)پنجاب نے حکومت کی متعدد سبسڈی سکیم پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیداواری لاگت کو کم کرنا اور کسانوں میں اچھے معیار کے بیج کے استعمال کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انھوں نے اس مقصد کے لیے قائم کی گئی متعلقہ کمیٹی میں آب پاشی کی لاگت کے معاملے پر بات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے چیئرمین پی سی پی اے کی کسان کارڈ میں بعض کیڑے مار ادویات کو شامل کرنے کی حکمت عملی کو سراہا تاکہ کسان رعایتی نرخوں پر کیڑے مار ادویات استعمال کر سکین۔

ڈاکٹر محمد اسلم(ڈی جی پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول) پنجاب نے ماہرین کو مطلع کیا کہ ڈرون سپرے کسانوں کونجی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے دستیاب ہوں گے کیونکہ مزید ڈرون درآمد کیے جارہے ہیں۔

ارشاد احمد نے کہا کہ کیڑے مار دوا کے استعمال کے لیے ڈرونز کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ڈرون اپریل 2022 تک تجارتی طور پر دستیاب ہوں گے.

انہوں نے بلوچستان اور چولستان میں نئے رقبے کو زیر بحث لانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا بشرطیکہ ان علاقوں کیلئے صحیح قسم کی ٹارگٹڈ مراعات دی جائیں۔

مزید کہا کہ پچھلے سال پیداوار 22 من فی ایکڑ کے مقابلے میں 10 فیصد کا اضافہ رکھا گیا ہے۔مجموعی طور پر پنجاب 32000میٹرک ٹن بیج کی فراہمی کے ساتھ6.5ملین گانٹھیں پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خالد عبداللہ کاٹن کمشنر کے مطابق قیمتوں کا تعین لنٹ کوالٹی اور فائبر کی لمبائی پر مبنی ہونا چاہیے اور کسانوں کو والیو میٹرک پیداوار کے بجائے اچھی کوالٹی والی کپاس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

شاہد ستار اور ڈاکٹر جاوید(اپٹما)نے کہا کہ اپٹما اچھی کوالٹی کی کپاس پر زیادہ پریمیم ادا کرنے کو تیار ہے۔

ڈاکٹر شفیق پتافی چیئرمین پی سی پی اے نے یہ مطالبہ کیا کہ معیشت کے لئے اپنی اہمیت کی وجہ سے کپاس کو حکومت کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

آخر میں وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کپاس کی بھرپور پیداوار کے لئے ایک مربوط طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیڈ کراپ مین کراپ سے بلکل الگ لگانی چاہیے تاکہ ہمیں اچھی کوالٹی کا سیڈ مل سکے۔

انہوں نے مزید سپرے کرنے کی تکنیک پر مختلف ٹریننگز کے انعقاد پر زور دیا اورکہا کہ حکومت کو بر وقت سبسڈی پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ کپاس کی کاشت کو مزید بڑھایا جاسکے۔اس موقع پر زرعی سائنسدان ڈاکٹر شفقت سعید زرعی اکانومسٹ، ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،ڈاکٹر مبشر مہدی چئیرمین کاٹن آر اینڈ ڈی بورڈ بلال اسرائیل خان، ڈپٹی سیکرٹری ایگریکلچرساؤتھ پنجاب ڈاکٹر حیدر کرار، ڈاکٹر محمد اقبال بندیشہ ، سید تنویر حسین، آصف مجید، ڈاکٹر عطا الرحمٰن، ڈاکٹر محمد اشفاق، ڈاکٹر نعیم اقبال، ڈاکٹر محمد فیاض، ڈاکٹر عبدالغفار بھی موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button