ویمن یونیورسٹی میں ذیابیطس کا عالمی دن منایا گیا

دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں شعبہ زوالوجی کے زیرِ اہتمام ذیابیطس کا عالمی دن منایا گیا ہے جس کی مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی اور سپیکر ڈاکٹر سعید اختر تھے ۔
اس تقریب کی فوکل پرسن ڈاکٹر آسیہ بی بی تھیں۔
ڈاکٹر عظمی قریشی نے کہا کہ طرز زندگی میں تبدیلی ملک بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے پیچھے کی ایک اہم وجہ ہے۔ ہم سادہ غذا، جیسے سبزیاں کھانے کو ناپسند کرتے ہیں، اور فاسٹ فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ متوازن غذا اور ورزش معیاری زندگی گزارنے کا اہم جزو ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ معاشرے میں ذیابیطس کا تیزی سے پھیلاؤ خطرناک حد تک پہنچ رہا ہے جو ہم سب کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے بجائے علاج معالجے پر زیادہ توجہ دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ذیابیطس جیسی لاعلاج بیماری عروج پر ہے۔جس کا ثبوت دنیا بھر میں ہر ایک اور پاکستان میں دس میں سے چار افراد میں ذیابیطس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس سمیت بیشتر متعدی اور غیر متعدی امراض سے بچاؤ ممکن ہے جس کے لیے بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ذیابیطس سمیت کچھ دیگر تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہمیں عوامی آگاہی مہم کے ذریعے اور علاج کے ساتھ ساتھ ان کی روک تھام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کو پہلے بزرگوں اور دولت مندوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہر عمر، جنس اور طبقے کے لوگ اس میں مبتلا ہو رہے ہیں، اس لیے بحیثیت قوم ہمیں مل کر اس بیماری کا مقابلہ کرنا ہو گا کیونکہ یہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
ڈاکٹر آسیہ بی بی نے کہا کہ 14 نومبر کو دنیا بھر میں ذیابیطس کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
پاکستان میں ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح پاکستان کی ترقی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے، اور اس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ آگاہی کا فقدان ہے۔


















