ڈویژنل آفیسر جنگلات نے کاروباری شراکت کے نام پر کروڑوں روپے ہڑپ کر لئے
محکمہ جنگلات کے ڈویژنل آفیسر اوراہلیہ کے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے کا انکشاف ہواہے۔
حکومت نے کروڑوں روپے کے گھپلوں میں ملوث ہونے پر نیب کی حراست میں رہنے کے باوجود اعلیٰ عہدے سے نوازدیا۔
وزیر اعظم بلین ٹرے منصوبے کا حصہ بن کر عہدے کا ناجائز استعمال کرکے شہریوں کو دھمکانا اور لوٹ مارکرنیکا سلسلہ جاری ہے۔
ملتان کے شہری ڈاکٹر طارق محمود قریشی نے بتایاکہ محکمہ جنگلات کے ڈویژنل آفیسر جاوید اقبال اور زوجہ ثمینہ بی بی نے لاہور میں شروع کئے گئے آر جے (R.J) فیشن بوتیک اینڈ بیوٹی پارلرکے نام سے بزنس میں بطور پارٹنر سرمایہ انویسٹ کرنے کی جانب راغب کیا، اور مختلف اوقات میں 2 کروڑ 55 لاکھ روپے وصول کئے۔
جسکے ثبوت کے طورپر مجھے چیک بھی دئیے ، جو بعد میں ڈس آنر ہوگئے اور اعتماد دلاکر دھوکہ دہی سے بھاری رقم ہتھیالی اور بدیانتی سے چیک جاری کرکے دھوکہ دیا۔
اس پر تھانہ نیوملتان میں اکتوبر 2021ء میں مقدمہ نمبر 1059-21درج کروادی گئی۔
ذرائع کا کہناہے کہ ڈویژنل آفیسر محکمہ جنگلات میاں جاوید اقبال نے اپنی بیوی ثمینہ ملک کے ساتھ ملکر مختلف ناموں سے کمپنیاں بناکر اور بزنس شروع کرکے سادہ لوح شہریوں کو ورغلاکر لوٹنے کا سلسلہ شروع کیاہواہے ، اور محکمہ جنگلات میں بھی کروڑوں روپے کی کرپشن اور غبن پر 2018-19ء میں قومی احتساب بیورو(نیب) کی تحویل میں رہا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایاکہ کرپٹ فاریسٹ آفیسر کو حکومت نے ایک بار وزیر اعظم بلین ٹری منصوبے کا حصہ بنادیا ہے، جسکی وجہ سے اختیارات اور عہدے کا ناجائز استعمال کرکے لوٹ مارکا سلسلہ دوبارہ شروع کردیاہے۔


















