Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کرنے کی سفارش

ویمن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کی پی ایچ ڈی سکالر مسز قدسیہ خاکوانی کاپبلک ڈیفنس کی تقریب منعقد ہوئی۔

ایڈمن بلاک کچہری کیمپس میں ہونےوالی تقریب میں سکالر قدسیہ خاکوانی نے اپنے مقالے ’عہد رسالت و خلافت راشدہ میں بین الاقوامی معاہدات اور دور جدید میں ان کی افادیت بحوالہ پاکستان‘‘ کا بھرںپور ڈیفنس کیا، اور حاضرین کے سوالوں کے جواب دئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون انسانیت اور موجودہ معاہدات کے بارے میں مسلم دنیا میں آگہی اور شعور کو بیدار کرنا بہرحال ان کی ذمہ داری ہے جس کی طرف مناسب توجہ اس وقت دکھائی نہیں دے رہی۔

بین الاقوامی معاہدات تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیے تھے، اور ہم گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران بین الاقوامی معاہدات کا حصہ رہے ہیں جس کا تسلسل آئندہ بھی جاری رہے گا، چنانچہ رسول اکرمﷺ کے اسوئہ حسنہ اور اسلامی تعلیمات و احکام کی روشنی میں آج کے بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لینا اور ان کے مثبت و منفی پہلووں سے امت مسلمہ بالخصوص نئی نسل کو آگاہ کرنا اور بیدار رکھنا اہل دانش کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

علاوہ ازیں بین الاقوامی معاہدات پر نظر ڈالنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ باہمی مفادات و ضروریات کا صحیح تناظر و تناسب سامنے لایا جائے ، اور اس کے مطابق اپنا اجتماعی کردار ازسرنو طے کیا جا سکے کہ ان معاہدات میں مسلم امہ کے عقیدہ و احکام اور تہذیب و روایات کو جن تحفظات کا سامنا ہے اور معاہدات کی بہرحال پابندی کی صورت میں جن شرعی احکام و قوانین سے دستبردار ہونا پڑتا ہے، ان کی نشاندہی ضروری ہے۔

اس لیے کہ آج کے مروجہ بین الاقوامی قانون انسانیت کی رو سے بھی مسلم قوم کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت کا تحفظ کرے اور عقیدہ و احکام کو درپیش خطرات کا سدباب کرے۔

ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کامیاب مجلسی دفاع پر ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی کو مبارکباد دی انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی کا ویمن یونیورسٹی ملتان کے ساتھ طویل عرصے سے وابستگی ہے اور شعبہ اسلامیات کی ترقی ڈاکٹر قدسیہ نے بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔

ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی نے اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی اور ڈاکٹر رانا اکرم کی نگرانی میں مکمل کیا۔

اس تقریب میں کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حنا علی اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button