ڈاکٹر عبد القدیر خان کے حالات زندگی پر "ڈی رپورٹرز” کی خصوصی رپورٹ

یکم اپریل 1396 کو موجودہ بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے تھے اور انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔
انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی، بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے، انہوں نے جرمنی اور ہالینڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیں۔
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے
ڈاکٹر عبالدقدیر خان 15 برس یورپ میں رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر 1976 میں پاکستان واپس آئے، انہوں نے 31 مئی 1976ء میں انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی۔
بعد ازاں اسی ادارے کا نام نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاءالحق نے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے 1976میں ایٹمی پروگرام پرکام شروع کیا
پاکستان کی جانب سےکامیاب ایٹمی تجربہ 28 مئی 1998میں کیاگیا
ڈاکٹرعبدالقدیرخان پہلےپاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈملے
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو 2 بارنشان امتیازسےنوازاگیا
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کوہلال امتیازبھی عطاکیا گیا۔
کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
چودہ اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا، اس سے قبل انہیں 1989 میں ہلال امتیاز کے تمغے سے بھی نوازا گیا تھا۔
پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر پوری قوم افسردہ ہے اور گہرے رنج کا اظہار کررہی ہے۔


















