Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

بین الاقوامی کانفرنس “اقتصادی مسائل اور پائیدار ترقی 2025″ کادوسرا دن بھی مکمل ہوا

ویمن یونیورسٹی ملتان میں جاری پانچویں بین الاقوامی کانفرنس “اقتصادی مسائل اور پائیدار ترقی2025″ کے دوسرے دن بھی علمی سرگرمیوں اور تحقیقی تبادلہ خیال کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری رہا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کانفرنس کا مرکزی محور پائیدار ترقی، انسانی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف کا حصول ہے۔

دوسرے دن مختلف سائنسی سیشنز میں مالیاتی پالیسی، بینکاری کے جدید رجحانات، شمولیتی فنانس، علاقائی و عالمی تجارت، غربت میں کمی، سماجی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حکمرانی کے چیلنجز جیسے اہم موضوعات پر تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔

مختلف سیشن سے خطاب کرتےہوئے سکالرز ڈاکٹر ڈاکٹر اسامہ توصیف (امریکہ)، ڈاکٹر غفور اعوان، ڈاکٹر ساجد نواز، ڈاکٹر عرفان، ڈاکٹر سائمہ سرور، ڈاکٹر قیصر عباس، ڈاکٹر محمد زبیر، ڈاکٹر محمد میاں عباس، ڈاکٹر عرفان احمد بیگ اور ڈاکٹر عذرا بتول شامل تھے۔

مقررین نے عصرِ حاضر کے معاشی چیلنجز اور پائیدار ترقی سے متعلق حکمتِ عملیوں پر جامع اور بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے لیے جدت، کاروباری سہولیات اور نوجوانوں کی معاشی شمولیت کی فوری ضرورت ہے۔

مائیکروفنانس اور چھوٹے کاروبار کے فروغ کے بغیر معاشی ترقی کا تصور نامکمل ہے، بینکاری اور سرمایہ کاری کے ماہرین نے اس ضمن میں جدید مالیاتی حل، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز اور کم لاگت کاروباری ماڈلز پیش کیے جو معاشی ترقی کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں، پائیدار ترقی کے لیے مالیاتی اداروں اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

دوسرے دن کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رمضان شیخ نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری ہی دراصل معاشی استحکام اور سماجی خوشحالی کا راستہ ہموار کرتی ہے، خواتین ملک کی معاشی ترقی میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں، اور ان کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے ڈیٹا پر مبنی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے معاشی ماڈلز میں استعمال کو مستقبل کی معاشیات کی بنیاد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی قلت اور عالمی مہنگائی جیسے چیلنجز کے حل کے لیے تعاون، تحقیق اور بروقت پالیسی سازی ناگزیر ہے۔

تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر پیش کی جانے والی سفارشات اور تحقیقی نتائج پاکستان کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مؤثر ثابت ہوں گے اور پائیدار ترقی کے نئے راستے متعین کریں گے۔

دوسرے روز صحت اور تعلیم کے شعبوں میں عدم مساوات کے تدارک اور بہتر سہولیات تک ہر فرد کی رسائی کے لیے تجاویز سامنے آئیں۔

اس موقع پر ملکی و غیر ملکی ماہرینِ معاشیات، محققین، اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی آج کانفرنس کا آخری روز ہوگا اوراس کا اعلامیہ بھی پیش کیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button