ریشنلائزیشن کے وضع کردہ طریقہ کار میں خامیاں ہی خامیاں

رانا ولایت علی ریٹائرڈ ڈپٹی ڈی ای او سیکنڈری ملتان اور سینئر ماہر تعلیم سید مجاھد حسین زیدی پنجاب میں اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے وضع کردہ طریقہ کار کی خامیوں کی نشان دہی کرتے ھوئے کہا ھے کہ باالخصوص خواتین اساتذہ کو جن سکولوں کا آپشن دینے کا کہا گیا ھے وہ تحصیل سطح پر بیس کلومیٹر سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ھیں اور زیادہ تر سکول ایسے ھیں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں جاتی۔
ریشنلائزڈ کئے جانے والے اساتذہ کی تعداد جو ظاہر کی گئی ھے وہ بہت زیادہ ھے اس سے قبل جتنی بار ریشنلائزیشن کی گئی اساتذہ کی رھائشگاہ سے دس کلومیٹر فاصلے یا اس سے کم فاصلے پر کی جاتی تھی خواتین اساتذہ اور بزرگ مرد اساتذہ ریشنلائزیشن کے خدو خال کو دیکھ کر اس قدر پریشان ھیں کہ ان کا دن رات کا سکون برباد ہوگیا ھے۔
وزیر اعلٰی پنجاب خود ایک خاتون ھے اور ان کو چاہیئے کہ خواتین اساتذہ کو ریلیف دیکر ریشنلائز کریں یا پھر اساتذہ کو پچیس سال مدت ملازمت پوری کرنے پر ریٹائر ھونے کا آ پشن دیں۔
انہوں نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے پر زور مطالبہ کیا ھے کہ اساتذہ کی موجودہ ریشنلائزیشن کی پالیسی کی خامیوں کو دور کر کے اساتذہ کو ریشنلائز کیا جائے۔



















