آئی ایم ایف کا دباؤ ، کاشتکاروں کےلئے بجلی کی نرخوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے : نوید اقبال ملک

ترقی پسند کاشتکار نوید اقبال ملک نے کہاہے کہ پاور ڈویژن نے خاموشی سے آئی ایم ایف کے دباؤ پر 35-5 rs.فی یونٹ سے بڑھا کر 70-8 rs.فی یونٹ کر دیا ۔
یہ اضافہ گزشتہ سال فروری میں 11۔1 روپے فی یونٹ مارچ میں 84۔ پیسے فی یونٹ مئی 40۔1روپے ٹوٹل اضافہ 35-3 کر دیا گیا ۔
باقی ٹیکسز ملا کر 13روپے فی یونٹ ہو گیا ۔
اگست سے 2021 ایف پی اے (FPA) لگا نے کے بعد 12 روپے فی یونٹ کا مزید اضافہ ہوگیا ھے۔
زرعی ٹیوب ویل صارفین کو اب اوسط 24 یا 25 روپے فی یونٹ ادا کریں گے ۔
زرعی صارفین کو پہلے تین سو روپے فی گھنٹہ پڑتا تھا ، اب ایف پی اے لگانے کے بعد چھ سو روپے فی گھنٹہ خرچ آئے گا ۔جو کہ سو فیصد اضافہ ہے ۔
یہ اضافہ زرعی ٹیوب ویل صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہے ۔
غریب کاشتکار 900 روپے فی گھنٹہ پانی خرید کر کیسے فصل کو لگائے گا .
گرمیوں میں چھ ہزار یونٹ کا بل .78000 آتا تھا اب یہی بل ایف پی اے لگانے کے بعد .124000.آئے گا ۔سالانہ اوسطا تین لاکھ کا اضافہ ہوگا۔
زرعی مداخل بیج کھاد سپرے اور ڈیزل پہلے ہی کافی مہنگے ہو چکے ہیں ۔ ڈی اے پی کھاد کی فی بوری پچھلے چھ ماہ کے عرصے میں پانچ ہزار سے لے کر دس ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔
حکومت زرعی صارفین پر ایف پی اے کا ٹیکس فوری طور پر واپس لے ۔ ان حالات میں 70 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔غریب کسان قرضوں کے بوجھ کے نیچے دب چکا ہے اور اپنی زمین نے سیل کرنے پر مجبور ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان سے گزارش ہے کہ زرعی ایمرجنسی نافذ کریں ۔زرعی ٹیوب ویل صارفین پر لگائے جانے والا ایف پی اے فوری طور پر واپس لے ۔
بیج کھاد سپرے اور ڈیزل کو سستا کر کے پاکستان کو زرعی اجناس میں خود کفیل بنائیں ۔زرمبادلہ کو بچائیں ۔



















