ایمرسن یونیورسٹی منفرد اور قابل تقلید ماڈل کے طور پر سامنے آئی ہے : ترجمان ڈاکٹر نعیم

ایمرسن یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر نعیم کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد رمضان کی قیادت میں ایمرسن یونیورسٹی نے پچھلے چند برسوں میں جو شاندار ترقیاتی اہداف حاصل کیے، ان میں مقامی کمیونٹی، صنعت کاروں اور مخیر حضرات کا تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ان احباب کے تعاون سے یونیورسٹی نے کسی حکومتی دباؤ یا مالی بوجھ کے بغیر ترقیاتی کام انجام دیے، جو ملک بھر میں ایک منفرد اور قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کی سیکرٹری ایجوکیشن، صوبائی وزیر تعلیم متعدد جگہوں پر تعریف کر چکے ہیں۔
اس برس یونیورسٹی میں داخلے کے لیے 12 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 4 ہزار طلباء کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے گا، پچھلے سال یہ تعداد 9 ہزار سے زائد تھی، جو والدین اور طلبہ کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بہت کم عرصہ میں ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں اس وقت 100 سے زائد بی ایس, اے ڈی پی پروگرام 22 ایم فل اور 5 پروگرام میں پی ایچ ڈی کا این او سی ملنا ایمرسن یونیورسٹی کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر نعیم نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی کو ملنے والے عطیات، فنڈز یا تعاون کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیا جاتا، بلکہ ان کا مصرف مکمل دیانتداری اور شفافیت سے صرف تعلیمی اور تعمیری مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔
اس وقت ایمرسن یونیورسٹی میں 80 سے زائد اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 60 فیصد فارن کوالیفائیڈ اور 13 اساتذہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ڈگری یافتہ ہیں، خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی شہرت یافتہ ماہر ڈاکٹر نوید، تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جن کی شمولیت یونیورسٹی کے علمی وقار میں اضافہ کا سبب ہے۔
ایمرسن یونیورسٹی ملتان جنوبی پنجاب کی واحد یونیورسٹی ہے جس نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے سیپ پروجیکٹ ون کیا ہے، جس کے تمام داخلہ جات امتحانات اور تمام امور کی نگرانی سیپ SAP پورٹل کے ذریعے شفاف طریقے سے کی جاتی ہے۔



















