Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

سابق صدر اے ایس اے پر مشکل وقت، ترقی خطرے میں پڑ گئی

سابق صدر اے ایس اے ڈاکٹر عبدالستار ملک کی بطور پروفیسر آ ف الیکٹریکل انجینیرنگ ترقی پر تلوار لٹک گئی ، عدالت نے سلیکشن بورڈ کا فیصلہ رٹ سے مشروط کردیا اور جواب طلب کرلیا۔

تفصیل کے مطابق اے ایس اے کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالستار ملک پرالزام ہے کہ انہوں نے سابق قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق انصاری سے ملی بھگت کرکے اپنی ترقی کا کیس بطور پروفیسر کےلئے منظور کرایا، اور اس کی اسامی بھی مشتہر کردی ، جس کو آج ہونے والے سلیکشن بورڈ میں پیش کیا جانا تھا ۔

مگر ایک اور فیکلٹی ممبر ڈاکٹر سید رضا گردیزی نے عدالت علیہ سے رجوع کرلیا، اور نے خلاف تمام ثبوت پیش کردیے ۔
جس پر عدالت نے ان کا کیس رٹ پٹیشن سے مشروط کرتے ہوئے احکامات جاری کردئے یہ سلیکشن بورڈ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ، وہ اس ر ٹ کے فیصلے کے تابع ہوگا ۔

اس لئے یونیورسٹی اس بارے میں تمام جوابات عدالت میں جمع کرائے ، اس فیصلے کے بعد ڈاکٹر عبدالستار ملک کی ترقی کے کیس پر سوالیہ نشان لگ گیا کہ کیا اب یہ کیس بورڈ میں پیش کیا جاسکتا ہے نہیں، اور اس پر کوئی فیصلہ سنایا جاسکتا ہے ۔

اس بارے میں یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر یہ کیس بورڈ میں پیش ہوسکتا ہے، تاہم سلیکشن بورڈ کے ممبران اور ا ن میں موجود عدالت عالیہ کے جج اس پر فیصلہ کریں گے کہ کیس سنا جائے یا عدالتی فیصلے تک ملتوی کردیا جائے ۔

واضح رہے کہ 2019 میں بھی ڈاکٹر ملک کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تقرری کے سلیکشن بورڈ کی کاروائی کو روکتے ہوئے انجینئرنگ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر طاہر سلطان برہم ہو کر واک آؤٹ کرگئے، مگر سابقہ صدر اے ایس اے عبدالستار ملک کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تقرری سیاسی اثر و رسوخ سے عمل میں لا ئی گئی تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button