اپوزیشن مایوس اور مسترد شدہ سیاست دانوں کا ٹولہ،انتشار کی سیاست کررہی ہے:شاہ محمود قریشی

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن مایوس اور مسترد شدہ سیاست دانوں کا ٹولہ ہے ، جوانتشار کی سیاست کررہی ہے۔ 2018ء سے لیکر اب تک حکومت گرانے کی بارہا کوششیں کی گئیں انہیں ناکامی ہوئی۔
اب اگر عدم اعتماد کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اپنا شوق پورا کریں، اپوزیشن کے پاس اگر ووٹ مکمل ہوتے تو وہ حکومت میں ہوتے۔کیونکہ ان کے پاس ووٹ پورے نہیں ہیں لہذا وہ دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں۔
دائیں بائیں دیکھنے والو ں کو ناکامی ہوگی۔ اپوزیشن اس حقیقت کو تسلیم کرے 2018ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں مسترد کیا۔
عوام اگر اپوزیشن پر اعتماد کرتے تو وہ آج حکومت میں ہوتے۔
حکومتی کارکردگی کی بنا پر کہہ رہا ہوں 2023ء کا سال بھی تحریک انصاف کا سال ہے۔ اپوزیشن کو 2023ء میں بھی مایوسی ہوگی، اگلی بار ی پھر ہماری ہے۔
ملک درست سمت پر جا رہاہے وزیراعظم پاکستان ملک کا وقار بلند اور پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
نیت درست‘ خلوص اور ایمانداری سے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کوشاں ہیں۔ قوم ساتھ دے انشاء اللہ ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے ملتان میں این اے 156 کی یونین کونسلوں 43‘47‘65 میں تقریبات سے خطاب‘ وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا پی پی ن لیگ دونوں جماعتوں نے 40سال تک اقتدار کے مزے لوٹے۔ دونوں جماعتیں باریوں کی سیاست اور فرینڈلی اپوزیشن کا کھیل کھیل کر عوام کو بے وقوف بنا رہی تھیں۔ عوام دونوں جماعتوں سے منتفر ہو چکے تھے۔
عوام کو وزیراعظم عمران خان کی شکل میں ایک ایماندار اور محب وطن قیادت میسر ہو گئی ہے۔ عوام کی امیدوں کا مرکز وزیراعظم عمران خان ہیں۔ عوام جانتے ہیں وزیراعظم عمران خان ملک کو تمام بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوام جانتے ہیں وزیراعظم ارادے کے پختہ اور اٹل ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں۔
انہوں نے پہلے دن کہا تھا لٹیروں سے جنگ رہے گی۔ اور آج چار سال گزر چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کسی چور اور لٹیرے کو این اے آر او نہیں دیا اور نہ دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کرپشن اور لٹیروں کے خلاف جنگ جاری رہیگی۔
انہوں نے کہاہم ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو معاشی حب بنانا چاہتے ہیں۔ہماری توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات کی طرف ہے۔
ہم اپنی جغرافیائی پوزیشن کومد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بہت بڑا اقتصادی حب بنانا چاہتے ہیں۔جس کے لئے اقتصادی سفارت کاری کا تصور پیش کیا ہے۔ اقتصادی سفارت کاری محض درآمدات، برآمدات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع تصور ہے۔ہمارے سفارت کاروں کو اقتصادی سفارت کاری کی ذمہ داری سنبھالنا ہو گی۔تب ہی ہم پاکستان کو مضبوط معاشی حب بنانے میں کامیاب ہونگے۔
انہو ں نے کہا مہنگائی ہماری حکومت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں اشیاء کی نقل و حمل بند ہو گئی جس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 8، 9 ماہ پہلے 40 ڈالر فی بیرل تھا، آج 90 ڈالر فی بیرل پٹرول ہم درآمد کرتے ہیں۔
جب تیل مہنگا ہوگا تو گیس‘بجلی، ٹرانسپورٹ سمیت روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
لیکن ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ جن کے ذریعے عوام پر بوجھ کم ہوگا اور مہنگائی کے جن کو قابو میں کیا جائیگا۔
ہماری کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے



















