ویمن یونیورسٹی میں فوڈ سیفٹی سیمینار

ویمن یونیورسٹی ملتان میں فوڈ سیفٹی کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔
متی تک کیمپس میں ہونے والا یہ سیمینار شعبہ بائیو کیمسٹری اور بائیو ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا ۔
جس خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ ایگریکلچر کے تمام شعبے بہتر اور محفوظ خوراک بنانے کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔
ہمارے ادارے آرگینک فوڈ کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں آج کا بڑا مسئلہ فوڈ سیفٹی ہے ،جس کو حل کرنا فوڈ ٹیکنالوجسٹ کا ہی کام ہے۔
فوڈ سیفٹی ایک نیشنل مسئلہ بن چکا ہے ہر سال لاکھوں لوگ صاف اور بہتر خوراک نہ مل پانے کی وجہ سے مرجاتے ہیں، اس لیے ہمیں فوڈ کو سیف اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
آج کل فوڈ انڈسٹریز بہتر اور محفوظ خوراک بنانے کے لیے سرگرداں ہے ہمارا مقصد صاف اور بہتر خوراک بنانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو خریدیں اور پاکستان کی اکانومی بہتر ہو ہمیں خوراک کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور اس حوالے سے لوگوں کو بھی آگاہ کرنا چاہیے ۔
مزید کہا کہ اس دن کے موقع پر یہ شعور بھی بیدار کیا جاتا ہے کہ انسانی صحت کے لئے معیاری خوراک اور صاف پانی کس قدر ضروری ہیں اور ان کے لیے کیا اقدامات کرنے چاھیں ۔
اس موقع پر ڈاکٹر طارق اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ عالمی ادارہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 10 میں سے ایک شخص آلودہ کھانا کھانے کے باعث بیمار پڑجاتا ہے، اسی آلودہ کھانے کی وجہ سے سالانہ چار لاکھ افراد موت کے منہ میں جاتے ہیں ۔
پاکستان میں ناقص خوراک کی وجہ سے ڈائریا کا مرض عام ہو چکا ہے ۔جس کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اموات واقع ہو رہی ہیں ۔
اس موقع پر BMI کیمپ کا انعقاد پاکستان نیوٹری سروسز کے تعاون سے کیا گیا۔
جس میں BZU کے شعبہ فوڈ سائنسز کے ماہرین حافظ محمد عزیر نے طالبات کا باڈی ماس انڈیکس کا معائنہ کیا، اور بچوں کی غذائیت کے مختلف پہلوؤں پر آگاہی فراہم کی۔
سیمینار کے آخر میں ڈاکٹر مریم زین نے فوڈ سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے فوائد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔
آخر میں شرکاء میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے، سیمینار میں اساتذہ اور طالبات نے شرکت کی۔



















