رواں برس ریٹائر ہونے والے پنجاب کے سرکاری ملازمین کو نصف سے بھی کم پینشن ملے گی

پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتیں ملازم دشمنی پر اتر آئی ہیں لیکن اگر صرف ریٹائرمنٹ پر جانے والے سرکاری ملازمین اور مستقبل کے پینشنرز کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی حکومت وفاق سے آگے ہے۔
بیوروکریسی نے دو دسمبر 2024 اور اس کے بعد ریٹائر ہوئے والے ملازمین فوری اور بتدریج پیشن اور گریجویٹی کی رقم کرنے کا جو فارمولا ایجاد کیا اور اس پر عمل پیرا ہے۔
فارمولے کے مطابق پینشن تفاوت دور کرنے کے لیے جو اضافے ماضی میں پیشن کیلکولیٹ کرتے وقت شامل کیے جاتے انہیں ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور آئندہ بھی سابق پینشنرز کو پیشن میں دیا جانے والا اضافہ اس سال اور بعد میں ریٹائر ہوئے والے ملازمین کو نہ دینے کا فارمولا نافذ کیا ہے۔
اس کے نفاز سے اس سال ریٹائر ہونے والے گریڈ انیس کے سرکاری ملازمین کو سابقہ فارمولے کے مطابق اگر پینشن کیلکولیٹ کی جاتی تو ماہانہ ایک لاکھ پچھتر ہزار چھ سو پندرہ ہوتی جو اب سکڑ کر محض اسی ہزار نو سو نوے رہ گئی ہے، یہ پہلی سے نصف سے بھی کم ہے۔
گریڈ انیس میں ریٹائر ہونے والوں کو یکم دسمبر 2024 سابق فارمولے کے مطابق اکیاسی ہزار نو سو نو یے اور چھ اضافے 2011 کا 15 فیصد، 2015 کا 7.5 فیصد ،2022 کا 15 فیصد ، 2023 کا 17.5 فیصد ،2024 کا 15 فیصد اور 2025 کا 7 فیصد کے اضافے 93625 مل کر ایک 175615 بنتےہیں۔
یہ اضافے پنجاب حکومت نے ختم کر دئیے ہیں، جس کے بعد صرف وہ رقم جو فارمولے کے مطابق بنتی ہے، یعنی 81990 وہی ملے گی۔



















