ریلوے ملتان میں الاٹمنٹ کے نام پر افسروں کی لوٹ مار

ریلوے اسٹیشن اور ڈویژنل سپرٹنڈنٹ آفس ملتان سے ملحقہ ریلوے کالونیوں میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ افسران کی لوٹ مار کا بڑا ذریعہ بن گئی ہیں۔
نذرانہ کے عوض سرکاری رہائشگاہ کی الاٹمنٹ کے لئے ترجیحی لسٹ میں ملازم کے نام کو نظر انداز کرنا، الاٹمنٹ کو منسوخ کرکے لسٹ کو پس پشت ڈال کر کسی دوسرے اہلکار کو اہلیت کے برعکس الاٹمنٹ کرنے کے اس کھیل میں مرکزی کردار انسپکٹر آف ورکس ادا کر رہا ہے، سب کو "حصہ بقدر جثہ” دیا جاتا ہے.
ذرائع کے مطابق ریلوے ملتان ڈویژن میں کمپیوٹر آپریٹر اصغر بھٹی آئی او ڈبلیو کفایت اللہ ایکس ڈی پی او نبیلہ اشرف ڈی ایس ملتان افتخار حسین نے کوارٹروں کی الاٹمنٹ کو بھی ذریعہ کمائی بنا رکھا ہے۔

پندرہویں سکیل کے ملازم کو دس ماہ پہلے آلاٹ کی گئی کوٹھی کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے قواعد وضوابط کو پس پشت ڈال کر ساتویں سکیل کے ملازم کے نام کر دی گئی۔
سائل دس ماہ میں متعدد بار ڈی ایس۔ ڈی پی او۔ ڈی این ون۔ کو درخواستیں دیتا رہا کے کوٹھی ترجیحی (پرارٹی) لسٹ کے مطابق میرے نام ہو چُکی ہے، قبضہ دلوایا جائے۔
تاہم تمام افسران نے انوار شہزاد نامی ملازم کو دھوکہ میں رکھا اور وقاص نامی ٹرین کلرک سے بھاری رقم لے کر گھر اس کے نام کر دیا جبکہ سکیل مطابق وقاص ملازم اس کوٹھی کی انٹائٹل منٹ کے اہل بھی نہیں ہے، مزید یہ کے پرارٹی لسٹ میں وقاص کا نام آٹھیسویں نمبر پر ہے۔

کرپشن کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ملتان ڈویژن کے افسران نے ایک بار پھر میرٹ کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیں ہیں، الاٹمنٹ اور پھر منسوخی کے اس کھیل میں افسران دونوں ہاتھوں سے مال بنانے میں مصروف ہیں۔آئی او ڈبلیو ملتان کفائت اللہ گھروں کی الاٹمنٹ کی سودا بازی کرکے اپنا حصہ نکال کر باقی رقم بقدر جثہ تقسیم کر دیتا ہے۔
ریلوے ملازمین نے اس صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے،چیئرمین ریلوے،چیف ایگزیکٹو و سنیئر جنرل منیجر ریلوے سے نوٹس لینے اور معاملہ کی شفاف تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس بارے میں ترجمان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ افسروں نے اس کیس کی انکوائری شروع کردی ہے آئندہ 24 گھنٹوں میں ذمے داروں کا تعین کرلیا جائے گا۔




















