سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری کے بعد ملک بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹس کی تصدیق عارضی طور پر معطل

انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (آئی بی سی سی) نے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی) کی جانب سے جاری کردہ سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری کے بعد ملک بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹس کی تصدیق عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ صرف میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سرٹیفکیٹس کی ویریفکیشن روکی گئی ہے بلکہ او لیول اور اے لیول کے سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور مساوات (Equivalence) کا عمل بھی فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام ممکنہ سائبر خطرات سے بچاؤ اور نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ متعدد آن لائن تصدیقی خدمات کو بھی عارضی طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ آئی بی سی سی کے تصدیقی اور مساوات کے آن لائن پورٹل کو فی الحال “ریڈ اونلی موڈ” میں رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے رجسٹرڈ صارفین اپنی درخواستوں کی موجودہ صورتحال چیک کرنے کے لیے لاگ اِن تو کر سکتے ہیں، تاہم نئی درخواستیں جمع کروانے کی سہولت عارضی طور پر دستیاب نہیں ہوگی۔
اس فیصلے کے باعث ملک بھر میں ہزاروں طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے طلباء کو تعلیمی اداروں میں داخلوں، ملازمتوں اور دیگر سرکاری امور کے لیے سرٹیفکیٹس کی تصدیق یا مساوات درکار ہوتی ہے، جس کی بندش سے ان کے معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔خصوصاً وہ طلباء زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں، کیونکہ انہیں یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور مساوات لازمی درکار ہوتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دستی تصدیق اور مساوات کا نظام پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا، اس لیے عارضی طور پر پرانے نظام کی طرف واپس جانا ممکن نہیں ہے۔
سائبر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پورٹل کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، پورٹل کو پاکستان کے اندر موجود صارفین کے لیے مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے، جبکہ بیرون ملک صارفین کو سسٹم کے مکمل طور پر محفوظ ہونے تک عارضی طور پر صرف پڑھنے تک رسائی حاصل ہوگی۔
واضح رہے کہ نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کی جانب سے یہ ایڈوائزری اس وقت جاری کی گئی جب گزشتہ ہفتے سائبر حملوں کے ذریعے متعدد پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز اور بعض سرکاری اداروں کی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔




















