ملتان کینٹ کے علاقہ میں غیر قانونی تعمیرات، خزانے کو کروڑوں روپے نقصان کا سامنا
بورڈ حکام کی جانب سے تعمیرات کے اجازت ناموں پر پابندی کے باوجود عملہ لاکھوں روپے لیکر خود ساختہ این او سی جاری کررہا ہے اور اپنی نگرانی میں نئی تعمیرات اور توڑپھوڑ کروائی جارہی ہے، قانونی طور پر کنٹونمنٹ بورڈ حکام نے تعمیرات اور توڑ پھوڑ پر پابندی عائد کررکھی ہے، اس کے باوجود عملہ رات کے اوقات میں توڑپھوڑ اور تعمیرات کروا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بان بازار، ابومحمد سٹریٹ، بابومحلہ ، چکی والی گلی، چوڑی بازار، مال روڈ ، نصرت روڈ ، غنی بخاری روڈ اور دیگر شاہراہوں /گلی/ محلوں میں رہائشیوں اور تاجروں نے تعمیرات کرنے کے لئے کنٹونمنٹ بورڈ میں این او سی کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں، لیکن بورڈ حکام کی جانب سے تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود این او سی جاری نہیں ہوسکے ۔
تعمیرات کرنے کے لئے رہائشیوں او رتاجروں نے شارٹ کٹ راستہ استعمال کیا اور کنٹونمنٹ بورڈ کے اہلکاروں سے رابطہ کیا جنہوں نے لاکھوں روپے معاوضہ لیکر رات کے اوقات میں تعمیرات کے لئے نہ صرف اجازت دی بلکہ اپنی نگرانی میں تعمیرات اور توڑ پھوڑ کروائی مال روڈ اور ابومحمد سٹریٹ میں بھی اجازت نہ ملنے کے باوجود تعمیرات دھڑلے سے جاری ہیں اور ان کی پشت پناہی کنٹونمنٹ بورڈ انجمن تاجران کے سابق عہدیدار کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ ایک طرف کنٹونمنٹ بورڈ کے اہلکاروں کو ٹیکسز وصولیوں کے ہدف میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے دوسری طرف خزانے کو اور میوٹیشن ، کمرشلائزیشن کی مد میں کروڑوں روپے نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔




















