ایمرسن یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ میں کورم پورا نہ ہونے کا انکشاف

شعبہ اسلامیات میں لیکچرر کے امیدوار ڈاکٹر عبد الباسط نے وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی اور داد رسی کمیٹی کے چیئرمین کو ارسال کئے گئے مراسلے میں کہا ہے کہ 27 جون کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق انٹرویوز کےلئے سلیکشن بورڈ ہونا تھا مگر سلیکشن بورڈ کی تشکیل میں موجود سنگین قانونی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث یہ عمل ملتوی کر دیا گیا۔
لیکن یہ خامیاں ابھی موجود تھیں کہ 10 جولائی 2025ء کو سلیکشن بورڈ کو، تمام قانونی پیچیدگیوں اور خامیوں کے باوجود، منعقد کیا گیا، جس میں بطور امیدوار برائے لیکچرار اسلامیات حاضر ہوا اور اپنا انٹرویو دیا۔
میرا تعلیمی اور پیشہ ورانہ ریکارڈ نہایت نمایاں اور شفاف ہے، ایم اے اسلامیات (بہاء الدین زکریا یونیورسٹی) میں گولڈ میڈل، ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت لیکچرار کے امتحان میں نمایاں پوزیشن سلیکشن بورڈ میں بہترین انٹرویو کارکردگی، 15 سے زائد قومی و بین الاقوامی تحقیقی مقالہ جات، 10 سالہ کالج و یونیورسٹی سطح پر تدریسی تجربہ شامل ہے۔
ایمرسن یونیورسٹی کے ایکٹ کے مطابق سلیکشن بورڈ میں کم از کم پانچ مستقل ممبران کا ہونا لازمی ہے، جبکہ موجودہ بورڈ محض تین ممبران پر مشتمل تھا، دو ممبرز کا عرصہ 09 اگست 2024 کو مکمل ہوچکا ہے، ان میں سے ایک ممبر کو کاغذی کاروائی کے لیے غیر قانونی طور پر بلایا گیا ، جبکہ دوسرے ممبر کی فزیکل اور آن لاٸن غیر موجودگی کے باوجود فرضی نمبر دیے جانے سے میرٹ کی خلاف ورزی کا سنگین خدشہ موجود ہے، نئے ممبران کی نامزدگی تاحال زیر التوا ہے۔
مزید برآں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کوئی نمائندہ بورڈ کا حصہ نہ تھا، جو کہ ایک واضح قانونی سقم ہے۔
اس بنا پر گزارش ہے کہ سلیکشن بورڈ کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد ازسرِنو تشکیل دیا جائے اور اس کی شفاف نگرانی میں انٹرویوز کا انعقاد کیا جائے تاکہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔



















