Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام پہلی دو روزہ بین الاقوامی ادبی کانفرنس 2024ء شروع ہوگئی

ترجمان کے مطابق کانفرنس کے افتتاحی سیشن کی صدارت کے فرائض رئیس جامعہ پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے سر انجام دئیے جبکہ مہمان اعزاز رجسٹرار دی ویمن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر میمونہ خان تھیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ حسین نے شعبہ اردو کے قیام اور کارکردگی پر روشنی ڈالی انہوں نے بتایا ک شعبہ اردو کے زیر اہتمام یہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیاگیا اور ایسے مخصوص موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے جس کے نتائج بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ معاصر عہد میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں اردو ادب کے امکانات اور اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تمام اصنافِ ادب معاصر عہد کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہونے کے باوجود دنیا کے سائنسی منظرنامے پر اپنی اہمیت کو تسلیم کروانے کے لیے عملی دشواریوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہء اردو نے "اردو ناول کا معاصر منظر نامہ” کے عنوان پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جو خوش آئند ہے، جس کے اثرات دیر تک رہیں گے، امید ہے یہ کانفرنس اب یونیورسٹی کے سالانہ کلینڈر کا حصہ بنے گی۔

رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ خان نے کہا کسی بھی معاشرے میں زبان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، اس کی آبیاری کےلئے تعلیمی ادارے اور حکومتیں خصوصی اہتمام کرتی ہیں اس کانفرنس کا مقصد دنیائے علم میں اس حقیقت کو اجاگر کرنا تھا کہ ناول سیاست، سماج، سائنس، فلسفہ جیسے تمام موضوعات پر مؤثر انداز میں نہ صرف دنیائے ادب بلکہ علمی حلقوں میں بھی ایک واضح شناخت رکھتا ہے۔

اس کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد اردو ادب کی طالبات کے نامور ناقدین اور تخلیق کاروں سے مکالمے کے ذریعے ان میں یہ شعور بیدار کرنا تھا کہ اردو ادب محض گل و بلبل کے فسانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ناول ایک ایسی صنفِ ادب ہے جس کے ذریعے وہ بصیرت پیدا ہوتی ہے جو زندگی میں پیش آنے والے مسائل یا چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔

اس موقع پر کلیدی خطبہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحسن ادارہ زبان و ادبیاتِ اردو پنجاب یونیورسٹی لاہور نے پیش کیا۔انہوں نے اکیسویں صدی میں سائنس ،فلسفہ اور دیگر نئے موضوعات پر لکھے جانے والے ناولوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ وسعت اور ہمہ گیری صرف اردو ناول سے مخصوص ہے کہ یہ صنفِ ادب ہر طرح کے مسائل اور وسائل کا احاطہ کر کے نہ صرف اردو ادب کے لیے قابلِ فخر ہے بلکہ بہترین تاریخ نویسی بھی اردو ناول کا ایک خاص وصف ہے.

افتتاحی سیشن کے اختتام پر صدر نشین شعبہء اردو دی ویمن یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر عذرا لیاقت نے کہا کہ "ہمارے ہاں بالعموم وہ طالبات آتی ہیں جنکا تعلق پسماندہ علاقوں سے ہے۔علم اور ادب کی جویا ان طالبات کے لیے پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع میرے نزدیک اس سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا کہ یہی وہ صنفِ ادب ہے جو ان طالبات کے اندر وہ ذوقِ بصیرت پیدا کرتی ہے جس کی روشنی میں یہ مستقبل میں نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑنے کی اہلیت حاصل کر سکیں گی بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس ہزارئیے میں اردو ادب کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پہلے ٹیکنیکل سیشن کی صدارت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر عامر سہیل ڈین فیکلٹی آف آرٹس اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے سر انجام دئیے۔

مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی استاد شعبہء اردو جی سی یونیورسٹی لاہور تھے جبکہ مہمانان اعزاز ڈاکٹر نعیم ورک ادارہ زبان و ادبیات اردو پنجاب یونیورسٹی لاہور اور ڈاکٹر حمیرا اشفاق استاد شعبہء اردو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد تھے۔

پہلے روز کانفرنس میں ڈاکٹر شاہد نواز،ڈاکٹر مظہر عباس ،ڈاکٹر الطاف یوسفزئی اور ڈاکٹر ظہیر عباس مقالے پیش کئے جبکہ دوسرے سیشن اردو ناول کا معاصر منظر نامہ کے دوسرے سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ترین سابق ڈین کلیہ زبان و ادب بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے کی۔

مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ اقبال کہانی کار جبکہ مہمانان اعزاز حفیظ خان، رفعت عباس اور نیر مصطفیٰ تھے اس میں تخلیق کاروں کے ساتھ ایک مکالمے کا اہتمام کیا گیا۔

شام میں شعبہء اردو دی ویمن یونیورسٹی ملتان نے شہر اولیاء کے معروف شاعر اسلم انصاری صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یادگار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد بھی کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button