Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

کلیم اللہ قتل کیس : اسلامی جمعیت طلباء کا مظاہرہ، ہاسٹل وارڈن اور سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

اسلامی جمعیت طلبا نے زکریا یونیورسٹی میں قتل ہونے والے کلیم اللہ سہو کیس کے سلسلے میں  احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں امیر جماعت اسلامی ملتان ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی نے خصوصی شرکت کی ۔
ڈاکٹر صفدر ہاشمی کا کہنا تھا وائس چانسلر کی اس سانحہ پر خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، آخر وہ ان نااہل اور غفلت کے مرتکب اور سانحہ کے مرکزی ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کررہے ہیں۔
ہم نہیں چاہتے کہ حالات خراب ہوں ش میں بحیثیت امیر جماعت ملتان کہ وائس چانسلر سے آخری بار کہ رہا ہوں یونیورسٹی کا ماحول خراب ہونے سے بچائیں، یونیورسٹی انتظامیہ وائس چانسلر ایکشن لیں نہیں تو جوہوگا اس سب کے ذمہ دار وائس چانسلر ہوں گے۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ ذکریا عبدالقدیر نے کہا کہ وی سی ڈاکٹر منصور اکبر کا اس واقع پر مجرمانہ خاموشی سے ثابت ہو رہا ہے کہ وی سی بھی کلیم اللہ سہو کے قتل میں ملوث ہیں ، اور قاتلوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر وی سی ان افسران اور انتظامیہ میں موجود کالی بھیڑوں کو نہیں برطرف کرتے تو ہمارا مطالبہ وائس چانسلر کی برطرفی کا ہوگا ۔ ہم اسکے لئے آخری حد تک جائیں گے ۔
قتل کے واقعہ سے کچھ دن پہلے اسی قاتل نے عمر ہال سے چوری کی، اور متاثرہ طالب علم نے اس حوالے سے وارڈن عمر ہال پروفیسر نجم الحق اور سپرنٹنڈنٹ عمر ہال ڈاکٹر نعیم عاشق کو درخواست بھی دی، مگر انھوں نے کوئی ایکشن نہ لیا۔
واقعہ والے دن صبح چھ بجے قاتل یونیورسٹی کے ہاسٹل حمزہ ہال میں ڈنڈے سے مسلح ہو کر پہلے طلباء کو دھمکاتا ہے اور بعد ازاں دو کمروں سے چوری کرتا ہے۔ طلباء نے ہاسٹل وارڈن پروفیسر دین محمد زاہد اور سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عارف علی کو ان کا چوری کیا گیا سامان واپسی لے کر دینے کے لئے درخواست بھی دیتے ہیں مگر دین محمد زاہد اور عارف علی نے ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا، ان افراد کو ذمہ داری ادا نہ کرنے پر فوری معطل کر کے پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کی جائے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر اسحاق فانی کی آڈیو جس میں وہ قاتل کو بچانے کے لیے غلط بیانی کر رہا ہے کی بھی مکمل انکوائری کی جائے۔
کلیم اللہ سہو فوڈ سائنس کا طالب تھا اور قتل سے تین دن پہلے ہی رزلٹ آیا ، اور یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کلیم اللہ یونیورسٹی کا طالب علم نہیں ہے۔
کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے کلیم اللہ سہو یونیورسٹی کا طالب علم تھا اور اس کا سٹوڈنٹ کارڈ دسمبر ۲۰۲۱ تک ہے بھی ہمارے پاس موجود ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی ہاسٹلز میں منشیات فروش اور چور قاتل کو بغیر کسی الاٹمنٹ کے رہائش دینے والے ہاسٹل وارڈن اور سپرٹنڈنٹ کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری کی جائے، ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس واقع میں تمام مجرموں اور انکے انتظامیہ میں موجود سرپرستوں کو بے نقاب کر کے جلد از جلد سزا دلوائے۔
اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم یونیورسٹی کا گہراؤ کریں گے اور یونیورسٹی بند کریں گے اور پھر یہ تحریک پورے پاکستان کے ہر شہر تک پہنچے گی، اور پھر حالات کی ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت خود ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button