“جانشینی کا اعتماد : والدین کی ذمہ داری، فطری پرورش سے لے کر نئی نسل کو با اختیار بنانے تک” بارے سیمینار

ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اسلامیات و عربی کے زیرِ اہتمام کچہری کیمپس میں ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان “جانشینی کا اعتماد: والدین کی ذمہ داری، فطری پرورش سے لے کر نئی نسل کو بااختیار بنانے تک” کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔
ترجمان کا کہنا ہےکہ سیمینار کا مقصد قرآن و سنت کی روشنی میں والدین کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنا اور نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کے حوالے سے علمی مکالمہ کو فروغ دینا تھا۔
تقریب کی چیف آرگنائزر وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تھیں جبکہ بین الاقوامی مقرر ڈاکٹر ہدایت اللہ احمد الشاش (ایسوسی ایٹ پروفیسر، کالج آف تفسیر اینڈ قرآنی سائنسز، اور ڈین کالج آف ایجوکیشنل اینڈ سائیکولوجیکل سائنسز، الحکمہ یونیورسٹی، پنسلوانیا، امریکہ) تھے۔
سیمینار کی فوکل پرسن ڈاکٹر مکیہ نبی (شعبہ عربی) تھیں صدارتی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ اسلام میں والدین کا کردار محض حیاتیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سونپی ہے، کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے وسائل نہیں بلکہ اس کی نئی نسل کا کردار، اعتماد اور اخلاقی بصیرت ہوتی ہےفطری اور اسلامی اقدار پر مبنی تربیت بچوں میں فکری خودمختاری اور روحانی استقامت پیدا کرتی ہے، اور جب والدین حکمت، شفقت اور اخلاقی نظم و ضبط کے ساتھ اولاد کی پرورش کرتے ہیں تو وہ صرف افراد نہیں بلکہ مستقبل کے قائدین اور مصلحین تیار کرتے ہیں نئی نسل کو بااختیار بنانے کا آغاز ان کے اذہان کو مضبوط بنانے، ایمان کو مستحکم کرنے اور سوچنے، غور و فکر کرنے اور دیانت کے ساتھ قیادت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے سے ہوتا ہے۔
جامعات کو ایسے علمی مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے جہاں علم حکمت میں ڈھل جائے اور طلبہ بصیرت افروز قیادت کی صلاحیتوں سے آراستہ ہو کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔
بین الاقوامی مقرر ڈاکٹر ہدایت اللہ احمد الشاش نے کہا کہ والدین بچے کے اولین اور سب سے بااثر اساتذہ ہوتے ہیں قرآن کریم والدین کو ایک شعوری اور بامقصد ذمہ داری ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ متوازن روحانی، فکری اور جذباتی تربیت کے ذریعے بچوں کو بااعتماد اور ذمہ دار شہری بناتے ہیں۔
مضبوط نسل کی تشکیل صرف آسائشوں سے نہیں بلکہ رہنمائی، نظم و ضبط، فکری تحریک اور روحانی وابستگی سے ممکن ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق اسفاد نے ویمن یونیورسٹی ملتان کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے علمی سیمینار نہ صرف فکری رہنمائی فراہم کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کی اخلاقی و قیادی تربیت میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی بامقصد علمی سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ علمی فضیلت، اخلاقی قیادت اور بااختیار نسلوں کی تشکیل کا سفر جاری رہے۔




















